جنسی جرائم میں سزا کا قیدی ’غلطی سے رہا‘ ہو گیا، برطانوی وزیراعظم ’خوفزدہ‘
جنسی جرائم ثابت ہونے پر سزایافتہ قیدی غلطی سے رہا کر دیا گیا جس کو دوبارہ گرفتار کرنے کے لیے برطانوی پولیس کی دوڑیں لگی ہوئی ہیں۔
سنیچر کو برطانیہ میں پولیس ایک ایتھوپین پناہ گزین اور سزایافتہ جنسی مجرم کی تلاش میں ہے جس کے جرائم نے امیگریشن مخالف مظاہروں کی لہر کو جنم دیا تھا اور جس کو غلطی سے جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔
وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا کہ وہ جمعے کے روز ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ غلطی سے ’خوف زدہ‘ ہیں جس میں 38 سالہ ہدوش گربرسلاسی کباتو کو امیگریشن حراستی مرکز بھیجنے کے بجائے رہا کر دیا گیا۔
برطانوی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’اس شخص کو اس کے جرائم کے لیے پکڑ کر ملک بدر کیا جانا چاہیے۔‘
کیباٹو نے ایک نوعمر لڑکی اور ایک عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں ایک سال کی سزا کا پہلا مہینہ کاٹ لیا تھا، لیکن مبینہ طور پر جیل سروس حکام کی غلطی کے باعث اس کو رہا کر دیا گیا جبکہ قانون کے مطابق اس کو ملک بدر کیا جانا تھا۔

