سائبر کرائم ایجنسی کے افسران پر سائبر کرائم کو تحفظ دینے اور تین لاکھ ڈالر لینے کا الزام
سائبر کرائم ایجنسی کے افسران پر سائبر کرائم کو تحفظ دینے اور تین لاکھ ڈالر لینے کا الزام
پاکستان میں حال ہی میں قائم کی جانے والی نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے پانچ افسران کو لاپتہ کرنے کے 15 دن بعد مقدمہ درج کر کے عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں ایجنسی نے اپنے ہی افسران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک بھر کے آن لائن سینٹرز اور سائبر کرائم میں ملوث منظم نیٹ ورکس سے ماہانہ بھتہ لیتے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق یوٹیوبر ڈکی بھائی کو گرفتار کر کے اُن سے رشوت کے طور 90 لاکھ لیے گئے جبکہ اُن کے بائنانس ڈیجیٹل والٹ سے تین لاکھ 26 ہزار ڈالر (326420) افسران نے اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرائے۔
مجموعی طور 9 افسران کے نام ایف آئی آر میں شامل ہیں۔
اسلام آباد سے 15 اکتوبر کو اغوا کیے جانے والے NCCIA کے افسر عثمان بھی مقدمے میں نامزد ہیں۔
لاہور کی مقامی عدالت میں افسران کو اغوا کے 15 دن بعد پیش کر کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان سے کروڑوں روپے کی ریکوری کی جانی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ عدالت نے ایف آئی اے حکام سے یہ دریافت نہیں کہ لاپتہ افسران اتنا عرصہ کہاں رکھے گئے تھے۔
یہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا سکینڈل ہے جس میں افسران کے اغوا کا الزام خفیہ ایجنسی ملٹری انٹیلیجنس پر لگایا گیا تھا۔ اس حوالے سے اسلام آباد سے اغوا کیے گئے افسر عثمان کی اہلیہ نے ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی اور پیشی کے دن وہ خود بھی لاپتہ ہو گئی تھیں۔

