فردِ جُرم عائد، جج مجوکہ اور وکیل ہادی چٹھہ میں تلخ کلامی
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں جج افضل مجوکہ کی عدالت نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ پر ایکس پوسٹ کے کیس میں فردِ جُرم عائد کی ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کرتے ہوئے اگلی سماعت پر استغاثہ کے تمام گواہان کو طلب کر لیا ہے۔
عدالت نے ہادی علی چٹھہ کو دوبارہ ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔
جج مجوکہ اور ہادی علی چٹھہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ میں مچلکے نہیں بھروں گا آپ نے سال جیل میں رکھنا رکھیں، آپ نے گزشتہ روز غیرقانونی کام کیا ہے آپ جج بننے کے اہل نہیں ہیں۔
ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے جج سے کہا کہ آپ ہمیں گرفتار کروانا چاہتے ہیں میری بھی ضمانت کینسل کروا دیں۔
جج افضل مجوکہ نے کہا کہ میرا اصول ہے کہ میں آپ کو عزت دوں گا تو مجھے عزت ملے گی۔
وکیل صفائی قیصر امام نے بتایا کہ ملزمان وکلا ہیں اور انہوں نے دیگر کیسز میں بھی پیش ہونا ہوتا ہے، کبھی ہائیکورٹ کبھی راولپنڈی۔
میں نے اس وجہ سے ایمان مزاری کے کہنے پر تین دفعہ سماعت ملتوی کی ،جج افضل مجوکہ
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 نومبر تک ملتوی کر دی۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

