عالمی خبریں

امریکی حکومت کا پناہ گزینوں کی تمام درخواستوں پر فیصلے روکنے کا اعلان

نومبر 29, 2025

امریکی حکومت کا پناہ گزینوں کی تمام درخواستوں پر فیصلے روکنے کا اعلان

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نزدیک افغان باشندے کی جانب سے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’پناہ گزینوں سے متعلق تمام فیصلے اُس وقت تک روک دیے گئے ہیں جب تک ہم یہ یقین نہ کر لیں کہ ہر اجنبی کی مکمل طور پر جانچ اور سکریننگ ہو چکی ہے۔‘

دوسری جانب واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کر کے ایک کو ہلاک کرنے کے الزام میں افغان شہری پر فرسٹ ڈگری قتل کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔

روئٹرز کے مطابق ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی امریکی اٹارنی جینین پیرو نے جمعے کو فاکس نیوز پر بتایا کہ 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال کے خلاف مزید الزامات بھی لگائے جائیں گے۔

ان کے مطابق ملزم نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے قریب ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔

رحمان اللہ لکنوال پر باقاعدہ فردِ جرم ابھی تک عائد نہیں کی گئی۔

بدھ کو ایک افغان نژاد شہری نے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا۔

تفتیش کاروں نے 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال نامی حملہ آور کا تعلق افغانستان سے بتایا ہے، جو امریکی شہری ہے اور افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کر رہا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اس حملے کو ’برائی، نفرت اور دہشت گردی‘ کی کارروائی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص 2021 میں اُن ’بدنامِ زمانہ پروازوں‘ کے ذریعے امریکہ پہنچا تھا جن سے افغان شہریوں کا انخلا کیا جا رہا تھا۔

اس واقعے کے کچھ ہی گھنٹے بعد امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) نے بدھ کی رات اعلان کیا کہ اس نے افغان شہریوں کے کیسز کی پراسیسنگ غیرمعینہ مدت کے لیے روک دی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے