”دشمن پڑوسی کیسے قریبی شراکت بنتے ہیں، جرمنی اور فرانس واضح مثال“
اسلام آباد میں جرمن و فرانسیسی سفارتخانوں کے تعاون سے تھنک فیسٹ کے زیر اہتمام مکالمے میں مقررین نے کہا ہے کہ فرانس-جرمنی شراکت داری ایک واضح مثال کے طور پر موجود ہے کہ دشمن پڑوسی ممالک کس طرح قریبی دوست بن سکتے ہیں۔
مقررین نے “یونیفیکیشن – ایک مسلسل کامیابی کی کہانی کے 80 برس” کے عنوان سے مکالمے کے دوران کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد گزشتہ 80 برسوں کی فرانس اور جرمنی کے درمیان شراکت داری نے ماضی کے دشمن ہمسایہ ممالک کے سیاستدانوں اور رہنماؤں کے لیے ایک سبق کا کام کیا ہے کہ کس طرح گزرے کل کے دشمن سیاسی مکالمے اور تعلیم، ثقافت، کاروبار اور سیاحت وغیرہ جیسے متنوع شعبوں میں تبادلوں کے ذریعے دوست اور قریبی شراکت دار بن سکتے ہیں۔

منگل کو میریٹ ہوٹل میں منعقد اس مکالمے میں سفیروں، ہائی کمشنروں، سفارت کاروں، بین الاقوامی امور کے ماہرین اور یونیورسٹی کے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب میں جرمن سفیر اینا لیپل نے کہا کہ یورپی اقوام کے درمیان جنگ اب تقریبا ناممکن ہے مگر یوکرین پر روس کے حملے کے بعد یورپی یونین کو چیلنج درپیش ہے اور ہم یوکرین کی مدد کرتے رہیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ “آزاد یورپی شہریوں کے طور پر روس کے خلاف یوکرین کی مدد کرنا ہماری اپنی ضرورت ہے۔”

فرانس کے سفیر نکولس گالے نے کہا کہ یورپ کے سٹریٹیجک دفاع کے لیے اُن کا ملک اور جرمن حکومت مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے سفارتخانے پاکستان میں انسانی حقوق اور مزدوروں کے حقوق پر عملدرآمد کے لیے کوشاں ہیں۔
سفیر نکولس گالے کا کہنا تھا کہ فرانس اور جرمنی کی امداد سے پاکستان میں پن بجلی کے چھوٹے منصوبوں پر بھی مل کر کام کر رہے ہیں۔
تقریب سے یورپی یونین کے سفیر ریمنڈس کرابلس نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی دشمنیوں کو پس پشت ڈال کر مشترکہ خوشحالی کی طرف بڑھنے کی کوششوں میں ٹھوس تعاون، معاشی بحالی اور نوجوانوں کی شمولیت ضروری ہے۔

