عالمی خبریں

’امتیازی قانون‘، آسٹریا میں کم عمر مسلمان طالبات کے سکارف اوڑھنے پر پابندی عائد

دسمبر 11, 2025

’امتیازی قانون‘، آسٹریا میں کم عمر مسلمان طالبات کے سکارف اوڑھنے پر پابندی عائد

یورپی ملک آسٹریا کی پارلیمنٹ نے 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے سکولوں میں ’ہیڈ سکارف‘ لینے یا سر ڈھانپنے پر پابندی کے قانون اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو قانون سازوں کی اکثریت نے پارلیمنٹ میں پابندی کے حق میں ووٹ دیا۔

انسانی حقوق کے گروپس اور ماہرین نے کہا ہے کہ یہ قانون امتیازی ہے اور یہ معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔
آسٹریا کی قدامت پسند جماعت کی حکومت نے امیگریشن مخالف جذبات کے دباؤ میں آ کر رواں سال کے آغاز میں اس پابندی کی تجویز پیش کی تھی۔ اس پابندی کے حق میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ اس کا مقصد لڑکیوں کو ’ظلم سے‘ بچانا ہے۔

2019 میں آسٹریا نے پرائمری سکولوں میں ہیڈ سکارف پر پابندی متعارف کرائی تھی لیکن آئینی عدالت نے اسے ختم کر دیا تھا۔

اس بار حکومت کا اصرار ہے کہ نیا قانون آئین کے مطابق ہے، تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ اس قانون کو ایک مذہب یعنی اسلام کے خلاف امتیازی سلوک اور بچوں کو غیر آرام دہ صورتحال کا شکار کرنے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
نیا قانون تمام سکولوں میں 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کو سکارف پہننے سے روکتا ہے جو ’اسلامی روایات کے مطابق سر ڈھانپتی ہیں۔‘

پارلیمنٹ میں جمعرات کو ہونے والی بحث کے بعد صرف حزب اختلاف کی گرین پارٹی نے پابندی کے خلاف ووٹ دیا۔
پارلیمنٹ میں قانون کا مسودہ یا بل پیش کرتے ہوئے انٹگریشن منسٹر کلاڈیا پلاکلم نے کہا کہ ’جب ایک لڑکی سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر صورت اپنے جسم کو چھپائے تاکہ مرد کی نگاہوں سے بچ سکے تو یہ کوئی مذہبی رسم نہیں بلکہ جبر ہے۔‘
کلاڈیا پلاکلم نے کہا کہ یہ پابندی جس کا اطلاق حجاب اور برقع سمیت اسلامی نقاب کی ’تمام صورتوں‘ پر ہوتا ہے، ستمبر میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ مکمل طور پر نافذ ہو جائے گی۔

اگلے سال فروری میں اس قانون کا اطلاق ابتدائی طور پر کیا جائے گا جس کے دوران ماہرین تعلیم، والدین اور بچوں کو نئے قانون کے بارے میں بتائیں گے جس کو توڑنے پر پہلی بار کوئی جرمانہ نہیں ہوگا۔ لیکن بار بار عدم تعمیل پر والدین کو 150 یورو سے 800 یورو تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حکومت نے کہا کہ نئے قانون سے تقریباً 12 ہزار کم عمر طالبات متاثر ہوں گی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے