پاکستان

عمران خان کو عمر رسیدہ اور بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے کی وجہ سے کم سزا دی: جج شاہ رُخ ارجمند

دسمبر 20, 2025

عمران خان کو عمر رسیدہ اور بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے کی وجہ سے کم سزا دی: جج شاہ رُخ ارجمند

‎اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بی بی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
دونوں کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت سات، سات سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

سنیچر کو سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی۔

‎جج نے فیصلے کے آخر میں لکھا ہے کہ عمران خان کو اُن کی زیادہ عمر اور بشریٰ بی بی کو خاتون ہونے کی وجہ سے کم سزا دی جا رہی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17 سال کی سزا سنائی گئی جبکہ ایک کروڑ روپے 60 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 13 جولائی 2024 کو عدت نکاح کیس میں بریت کے بعد نیب نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کے ایک اور ریفرنس میں گرفتار کر لیا تھا۔

نیب نے انکوائری رپورٹ میں کہا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی پر ’ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام‘ ہے۔

نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ’یہ کیس 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔ گراف واچ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں۔‘
’تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لیے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔ گراف واچ کا قیمتی سیٹ بھی ’ریٹین‘ کیے بغیر ہی بیچ دیا گیا۔ پرائیویٹ تخمینہ ساز کی ملی بھگت سے گراف واچ کے خریدار کو فائدہ پہنچایا گیا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر تحفے کو پہلے رپورٹ کرنا اور توشہ خانہ میں جمع کروانا لازمی ہے۔ صرف 30 ہزار روپے تک کی مالیت کے تحائف مفت اپنے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی پر 12 دسمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے