یمن کو اسلحے کی فراہمی، سعودی عرب کی امارات کے بحری جہازوں پر بمباری
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے ایک ’محدود‘ فضائی حملہ کیا ہے جس کا ہدف دو ایسے جہاز تھے جو سرکاری اجازت نامے حاصل کیے بغیر جنوبی یمن کی المکلا بندرگاہ میں ہتھیار لانے کی کوشش کر رہے تھے۔
متحدہ عرب امارات نے فوری طور پر حملے پر ردعمل ظایر نہیں کیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ حملہ سعودی عرب اور امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل کی علیحدگی پسند قوتوں کے درمیان کشیدگی میں ایک نئے اضافے کا اشارہ ہے۔ یہ ریاض اور ابوظہبی کے درمیان تعلقات کو مزید کشیدہ کرتا ہے، جو بحیرہ احمر کے وسیع علاقے میں بے چینی کے دوران ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف یمن کی دہائیوں سے جاری جنگ میں مسابقتی فریقوں کی حمایت کر رہے تھے۔
سرکاری سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے کیے گئے ایک فوجی بیان میں حملوں کا اعلان کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع بندرگاہی شہر فجیرہ سے بحری جہاز وہاں پہنچنے کے بعد ہوئے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے ذریعے جاری کیے گئے بیان میں اتحاد ی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو جہاز اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان سے باضابطہ اجازت حاصل کیے بغیر جنوبی یمن کی مکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے تھے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ’دونوں جہازوں کے عملے نے دونوں جہازوں کے ٹریکنگ سسٹمز کو ناکارہ بنا دیا اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور جنگی گاڑیاں اتاریں تاکہ مشرقی یمن کے صوبوں حضرموت اور المھرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی حمایت کی جا سکے جس کا مقصد تنازع کو مزید ہوا دینا ہے۔ یہ جنگ بندی نافذ کرنے اور پُرامن حل تک پہنچنے کی کوششوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر (2216) 2015 کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘

