یمنی بندرگاہ پر بمباری کے بعد امارات کا سعودی عرب کے بیان پر جواب
متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ابوظبی سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حالیہ واقعات میں متحدہ عرب امارات کے کردار کے بارے میں سعودی بیان میں غلطیاں ہیں۔‘
بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے واضح طور پر یمن میں فوجی کارروائیوں میں اپنا نام شامل کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا ہے جو ہماری دوست مملکت سعودی عرب کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں یا اس کی سرحدوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
’متحدہ عرب امارات سعودی عرب کی برادر مملکت کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے، اس کی خودمختاری اور قومی سلامتی کا مکمل احترام کرتا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اس بات پر زور دیتا ہے کہ یمن کی حضرموت اور المہرہ کی گورنریٹس میں ہونے والے واقعات کے آغاز کے بعد سے اس کا موقف سعودی عرب کی بادشاہت کے ساتھ ہم آہنگی میں، صورتحال پر قابو پانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ وزارت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ زیرِبحث کھیپ میں کوئی ہتھیار نہیں تھا، اور جو گاڑیاں اتاری گئی تھیں وہ کسی یمنی پارٹی کے لیے نہیں تھیں بلکہ یمن میں کام کرنے والی متحدہ عرب امارات کی افواج کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں۔
خیال رہے کہ ان فوجی گاڑیوں کو لانے والے بحری جہازوں کو سعودی عرب کی زیرِ قیادت یمن میں مصروف اتحادی افواج نے بمباری کر کے نشانہ بنایا تھا۔
امارات کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس حوالے سے گردش کرنے والے دعوے کھیپ کی اصل نوعیت یا مقصد کی عکاسی نہیں کرتے۔ وزارت نے نوٹ کیا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں اس کے بھائیوں کے درمیان ان گاڑیوں کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر رابطہ تھا اور یہ معاہدہ ہوا تھا کہ گاڑیاں بندرگاہ سے نہیں نکلیں گی۔ تاہم متحدہ عرب امارات کو مکلا کی بندرگاہ میں ان گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے عمل نے حیران کر دیا ہے۔

