امریکی صدر ٹرمپ کی پہلی بڑی دہشت گردی، وینزویلا پر حملہ کر کے صدر گرفتار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں فوج نے ایک بڑی دہشت گرد کارروائی میں وینزویلا پر حملہ کیا ہے.
امریکی صدر نے کہا ہے کہ ان کی افواج نے وینزویلا میں ’بڑے پیمانے پر حملہ‘ کر کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سنیچر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کارروائی کامیابی سے انجام دی ہے، جس کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلات فراہم کرنے کے لیے سنیچر کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے ( جی ایم ٹی وقت 1600) فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ مار-اے-لاگو میں پریس کانفرنس کریں گے۔
نیو یارک ٹائمز کو ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’انتہائی شاندار‘ قرار دیا۔
اخبار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’اس میں بھرپور منصوبہ بندی شامل تھی اور اس میں بہترین، نہایت بہترین فوجی اور قابل لوگ شریک تھے۔‘
صدر ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو اور وینزویلا کی تیل پر انحصار کرنے والی معیشت پر امریکہ کا فوجی اور معاشی دباؤ کئی ماہ سے بتدریج بڑھتا چلا آ رہا تھا۔
امریکی صدر نے دسمبر میں کہا تھا کہ صدر مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا ’دانشمندی‘ ہو گی، جبکہ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وینزویلا کے صدر کے ’دن گنے جا چکے ہیں۔‘

