اسلام آباد میں تین مقامات پر درختوں کی کٹائی، حقیقت کیا ہے؟
حد نگاہ تک ہموار میدان نظر آ رہا تھا جسے بلڈوزر کی مدد سے مکمل لیول کر دیا گیا تھا۔ بڑے درختوں کو پہلے ہی ٹھکانے لگا دیا گیا تھا تاہم اب بھی کہیں کہیں درختوں کی باقیات رہ گئی تھیں۔
جب میں جمعرات کو اسلام آباد میں درختوں کے قتل عام پر ایک سٹوری کے لیے پارک روڈ پہنچا تو بنی گالہ موڑ سے قریب ہی بائیں جانب ہر طرف بڑی مشینری لگی نظر آئی۔ سی ڈی اے اور ڈی ایچ اے کے مشترکہ ہاؤسنگ منصوبے ’مارگلہ انکلیو‘ کو پارک روڈ سے لنک کرنے کے لیے یہ سڑک نکالی جا رہی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ زمین نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی ہے۔
میں نے موقع پر موجود سی ڈی اے کے سٹاف سے اجازت لے کر تعمیراتی سائٹ کی ویڈیو بنانی شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر میں سی ڈی اے اور تعمیراتی کمپنی ایف ڈبلیو او کے کچھ لوگ نمودار ہوئے۔ سی ڈی اے والے صاحب اپنے حلیے اور بول چال سے سرکاری ملازم کم اور کوئی ٹھیکیدار یا پراپرٹی ڈیلر ٹائپ لگ رہے تھے۔ انہوں نے کام سے مجھے روکتے ہوئے اپنا موبائل فون انہیں چیک کروانے کو کہا۔ تب تک میں تقریباً اپنا کام کر چکا تھا۔ میں نے انہیں اپنا پریس کارڈ دکھایا اور ان سے جانے کی اجازت لی۔ ان کی مہربانی کہ انہوں نے دوبارہ میرے سے موبائل والی بات نہیں کی۔
سی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ شہر سے صرف جنگلی شہتوت کے درخت ہی کاٹے جا رہے ہیں تو پھر میڈیا کو کوریج سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ کیا اس سڑک کے راستے پر تمام جنگلی شہتوت ہی لگے تھے؟
پارک روڈ کے بعد میں سیدھا سیکٹر ایچ ایٹ پہنچا جہاں ’معرکہ حق مونومنٹ‘ اور پارک بنایا جا رہا ہے۔ یادگار جو ایک علامتی دفاعی دیوار ہو گی۔ پارک جس میں درخت نہیں دیواریں کھڑی ہوں گی۔ اس کی تعمیر کے لیے ایچ ایٹ سروس روڈ اور ہائی وے کے درمیان موجود تمام درختوں کا صفایا کیا جا چکا ہے۔
ایچ ایٹ سیکٹر میں متعدد تعلیمی ادارے ہیں جن کے کچھ طلبہ سروس روڈ کے ساتھ فٹ پاتھ پر چہل قدمی کر رہے تھے۔ میں اپنی رپورٹ کے لیے طلبہ سے بات کرنا چاہتا تھا۔ ان میں سے ایک لڑکی نے بتایا کہ اس پراجیکٹ سے پہلے یہاں ایک پرسکون ماحول تھا۔ درختوں میں پرندوں نے گھونسلے بنائے ہوئے تھے اور ہر وقت ان کے چہچہانے کی آوازیں آتی تھیں۔ واک کے دوران درختوں کا سایہ ہوتا تھا۔ مگر اب وہ ماحول بدل چکا ہے۔ میں نے ان سے بہت کہا کہ آپ کیمرے پر یہ بات بتا دیں لیکن کہنے لگیں کہ انہیں گھر سے اجازت نہیں۔ ہمارے پروفیشن کا بھی تقاضا ہے کہ کسی کی کونسیٹ کے بغیر کبھی رپورٹ نہیں کیا۔
اُدھر ہی ایک ایسی طالبہ بھی ملیں جنہوں نے پانچ منٹ میرا انٹرویو کیا۔ جب ان کی تسلی ہو گئی کہ میں ایک انٹرنیشنل نیوز ادارے سے وابستہ ہوں تو انہوں نے ایچ ایٹ میں پارک سے متعلق سوال شروع کر دیے۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہاں ’معرکہ حق‘ یادگار بنائی جا رہی ہے۔ اتنے سوال جواب کے بعد وہ یہ کہہ کر چلی گئیں کہ میری معلومات مکمل نہیں، مجھے اس موضوع پر مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد میں شکرپڑیاں نیشنل پارک پہنچا جہاں سی ڈی اے کا سٹاف پودے لگانے میں مصروف تھا۔ ان میں سے ایک مالی بابا بھی تھے جو شکرپڑیاں کے مقامی ہیں۔ انہوں نے مجھے اس علاقے میں مختلف اقسام کے درختوں کے حوالے سے بہت اچھی طرح بریف کیا۔ جنگلی شہتوت کے علاوہ بھی کچھ ایسے درخت اور پتے چیک کروائے جو الرجی کا سبب بنتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہی بات کیمرے پر بتا دیں لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں سی ڈی اے افسران نے کسی میڈیا سے بات کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں سے جنگلی شہتوت کے علاوہ کوئی دوسرا درخت نہیں کاٹا گیا۔
میں نے شکرپڑیاں پارک میں کافی وقت گزار کر دیکھا کہ یہاں مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر درخت کاٹ دیے گئے ہیں۔ شکرپڑیاں روڈ اور ایکسپریس وے کے درمیان گرین بیلٹ برائے نام رہ گئی ہے اور اب ہائی وے پر رواں ٹریفک کا شور اس نیشنل پارک میں بھی آنے لگا ہے-
یہ تحریر صحافی حسن ناصر خان کی فیس بُک سے لی گئی ہے۔

