پاکستان

تیراہ آپریشن پر وفاق کا بیان کور کمانڈر اور فیڈرل کانسٹیبلری کے سربراہ پر عدم اعتماد ہے: وزیراعلٰی

جنوری 26, 2026

تیراہ آپریشن پر وفاق کا بیان کور کمانڈر اور فیڈرل کانسٹیبلری کے سربراہ پر عدم اعتماد ہے: وزیراعلٰی

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل افریدی نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں آپریشن نہ ہونے اور لوگوں کی نقل مکانی کے حوالے وفاقی حکومت کا بیان پشاور کے کور کمانڈر اور فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔

پیر کی شام پشاور میں صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کے ذریعے بے گھر کیے جا رہے ہیں۔

’امن پاسوں کے ذریعے ہم کہتے تھے کہ پہاڑوں تک دہشت گرد آ گئے، پھر بازاروں میں پہنچ گئے۔ اور اب جبکہ ہمارے گھروں تک پہنچ گئے تو کہتے ہیں کہ آپریشن کرتے ہیں۔ جب پہاڑوں میں تھے تو آپریشن کیوں نہیں کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ یہاں 15 نکاتی فارمولا دیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی مسلے کا حل نہیں۔ ایسے وقت پر میرے علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے کہ وہاں پر سرد موسم کی وجہ سے وہاں جانور بھی نہیں رہ سکتا۔ میرے علاقے سے جبری لوگوں کو نکالا۔
’پہلے مجھ پر سمگلر ہونے کا الزام لگایا اور پھر دہشت گرد بنایا۔ تمام تر کارروائیاں مجھے نیچھا دیکھانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ ان کو دونوں بیانیوں میں منہ کی کھانی پڑی تو آپریشن شروع کیا۔‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’میرا موقف واضح ہے اور کسی کا باپ بھی مجھے اس سے نہیں ہٹا سکتا۔ جو 14 ارب روپے جو ہم نے بے گھر لوگوں کے لیے جاری کیے یہ ہم ہسپتالوں پر بھی لگا سکتے تھے۔‘
’اس شدید برف باری میں انھوں غلطی کی لیکن پھر ان کو معلوم ہوا کہ بند کمرے کے فیصلے ان کے گلے پڑ گئے۔ اور اب ایک پریس ریلیز جاری کی جو ان کی ناکامی کا پروانہ ہے۔ یہ بیان کورکمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی پر عدم اعتماد ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کسی بھی جرگے میں نہیں بیٹھیں گے۔ آج کے بعد کوئی فیصلہ ان لوگوں کے ساتھ زبانی نہیں بلکہ خط وکتابت کے ذریعے ہوگا۔ فیصلہ ہوا تھا کہ جس کا گھر تباہ ہوگا ان کو چار لاکھ روپے دیا جائے گا۔ کروڑوں روپے مالیت کے گھر کے چار لاکھ لگائے گئے اور آج تک وفاقی حکومت نے وہ بھی نہیں دیے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک قبائلی کا وزیراعلی بننا ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ’آج کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر بیٹھیں اور حکومت پالیسی مرتب کرے۔ آپ کی پالیسی بھی ناکام اور اور آپ کے مشیر بھی بے وقوف ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک مستقل اور دیرپا پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ ’وفاق ہمارا مقروض ہے وہ نہیں دیتے اور وہاں پانچ ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ لیکن ہمارے 4 ہزار ارب روپے سے زائد نہیں دیتے۔‘
’ہمارے اداروں کو پاکستان کی فکر نہیں وہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ میں جلد آفریدی قوم کا جرگہ بلا رہا ہوں، اتوار کے دن پختون قوم کا جرگہ ہوگا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے