عالمی خبریں

’میرے فیصلے ناقص تھے‘، ناروے کی شہزادی بھی ایپسٹین فائلز میں

فروری 2, 2026

’میرے فیصلے ناقص تھے‘، ناروے کی شہزادی بھی ایپسٹین فائلز میں

ایپسٹین فائلز میں نام آنے کے بعد ناروے کی شہزادی میٹ مارٹ مشکلات کا شکار ہیں اور اُن پر تنقید کی جا رہی ہے۔
شہزادی کا نام ایپسٹین فائلوں کی تازہ ترین قسط میں 1,000 سے زیادہ بار سامنے آیا ہے۔

52 سالہ شہزادی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو ایک بیان میں کہا کہ ’میں نے ناقص فیصلے کیے اور مجھے ایپسٹین کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے پر بہت افسوس ہے۔ یہ صرف شرمناک ہے۔‘

وزیراعظم جوناس گہر اسٹور نے کہا کہ وہ اس بات سے ’اتفاق‘ کرتے ہیں کہ شہزادی میٹ مارٹ نے خراب فیصلے کیے۔ ناروے کے میڈیا نے شہزادی اور امریکی جنسی مجرم کے درمیان پیغامات شائع کیے جو 2011 کے ہیں۔

یہ رابطے ایپسٹین کی جانب سے سنہ 2008 میں ایک نابالغ کو جسم فروشی کے لیے استعمال کرنے کی درخواست کرنے کے جرم کے اعتراف کے تین سال بعد کیے گئے۔

ایک ای میل میں شہزادی نے ایپسٹین سے پوچھا کہ کیا ’ایک ماں کے طور پر اپنے 15 سالہ بیٹے کے وال پیپر کے لیے سرف بورڈ لے جانے والی دو برہنہ عورتوں کو تجویز کرنا نامناسب تھا۔‘

ایک اور میں جنسی مجرم کے جواب میں کہ وہ پیرس میں ’بیوی کی تلاش‘ میں تھا، میٹ مارٹ نے لکھا تھا کہ فرانسیسی دارالحکومت ’زنا کے لیے اچھا ہے۔‘ اور ’سکینڈس بیوی کے طور پر بہتر میٹریل ہے۔‘

ایپسٹین کے پس منظر کا زیادہ قریب سے جائزہ نہ لینے کے دعووں کے باوجود شہزادی کی ایک ای میل اُن کے جھوٹ کو بے نقاب کرتی ہے۔

میٹ مارٹ نے سنہ 2011 میں ایپسٹین کو ایک پیغام میں بتایا تھا کہ انہوں نے اسے ’گوگل‘ کیا تھا اور جملے کے آخر میں مسکراتے ہوئے ایموجی کے ساتھ لکھا کہ ’یہ زیادہ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔‘

سنہ 2013 میں شہزادی فلوریڈا میں جنسی مجرم کے گھر پر چار دن ٹھہریں تاہم ایپسٹین اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب میٹ مارٹ کے بڑے بیٹے ماریئس بورگ ہوبی کو رواں ہفتے 38 الزامات کا سامنا ہے جن میں ریپ بھی شامل ہے۔ بورگ ہوبی نے زیادہ تر الزامات کی تردید کی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے