پاکستانی فیلڈ مارشل اور سعودی وزیر دفاع کی ملاقات، ایرانی حملے روکنے کے لیے ’ضروری اقدامات‘ پر گفتگو
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے فوجی تصادم کے دوران مملکت پر ایران کے حملوں پر تبادلہ خیال کیا۔
شہزادہ خالد نے سنیچر کی صبح سوشل میڈیا پر لکھا ’ہم نے مملکت پر ایرانی حملوں اور ہمارے مشترکہ سٹریٹجک دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت انہیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات پر بات چیت کی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی کارروائیاں علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایرانی فریق دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا اور غلط فہمیوں سے بچنے کی کوشش کرے گا۔‘
سعودی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ سنیچر کو ’ربع الخالی‘ میں شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔
منگل کو ریاض میں امریکی سفارت خانے پر بھی ایک ڈرون حملہ ہوا تھا جس سے معمولی آگ لگی تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
سعودی عرب اور پاکستان نے ستمبر میں ایک ’سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے جس میں عہد کیا گیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

