جج کی درخواست مسترد، کارروائی جاری
سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کے حوالے سے مقدمے میں ریمارکس دے کر خبروں اور ‘مسلمانوں’ کے دلوں میں رہنے کی کوشش کرنے والے جج نے بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں اپنے خلاف ریفرنس کی کارروائی روکنے کی درخواست کی مگر پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے درخواست مسترد کرتے ہوئے آج ریفرنس پر سماعت کی _
ججوں کے احتساب کے ادارے (سپریم جوڈیشل کونسل) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد استغاثہ کی جانب سے گواہان کی فہرست کونسل کے سامنے پیش کر دی گئی، ذرائع کے مطابق چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس ثاقب نثار کی سر براہی میں پانچ رکنی کونسل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت کا آغاز کیا تو جج کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے موکل چاہتے ہیں کونسل کا ٹرائل اوپن ہو، اس کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی ہے، آئینی درخواست پر فیصلہ آنے تک کونسل کی کارروائی روک دی جائے، ذرائع کے مطابق کونسل نے استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئینی درخواست پر کوئی حکم امتناع جاری نہیں جاری کیا گیا اس لیے کونسل کی کارروائی کو روکا نہیں جا سکتا، جس کے بعد استغاثہ کی جانب سے جج کے خلاف گواہان کی فہرست پیش کی گئی، جوڈیشل کونسل نے فہرست وصول کرنے کے بعد سماعت ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر سرکاری گھر کی تزئین و آرائش پر 80 لاکھ روپے کے اخراجات کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جس کے لیے انہوں نے مبینہ طور پر سی ڈی اے حکام پر دباؤ ڈالا _

