اسلام آباد میں فوج کا کپتان گرفتار
اسلام آباد پولیس نے شراب پی کر سرکاری پستول کے ساتھ یونیورسٹی میں گھسنے والے فوج کے کپتان کو گرفتار کرلیا۔ اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں فوج کے کپتان کے گیارہ دوستوں کے خلاف بھی یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنانے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
قائداعظم یونیوسٹی کی انتظامیہ نے مقدمہ درج کراتے ہوئے اپنی درخواست میں پولیس کو بتایا ہے کہ فوج کا ایک کپتان اپنے گیارہ ساتھیوں جو کہ یونیورسٹی کے طلبہ ہیں، کے ہمراہ نشے کی حالت میں پستول سے مسلح رات کے وقت یونیورسٹی میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا جس کو گیٹ پر شناخت کیلئے سیکورٹی گارڈ نے روکا تو تمام افراد نے اس کو تشد د کا نشانہ بنایا جسے موقع پر موجود دیگر طلبہ اور گزرنے والوں نے بچایا، یونیورسٹی کے سیکورٹی کے عملے نے تھانہ سیکرٹریٹ پولیس کو مدد کیلئے کال کی۔
ایف آئی آر کے مطابق موقع سے گرفتار کیے گئے فوج کے کپتان کا نام وقاص ہے جبکہ اس کے قبضے سے ملنے والا پستول بھی سرکاری ہے۔ سیکرٹریٹ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے کپتان کا نام شہزادہ ہے، اور اسے بعد ازاں ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا گیا جبکہ دیگر ملزمان یونیورسٹی کے طلبہ ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فوج کا کپتان بھی قائداعظم یونیورسٹی کا ہی پڑھا ہے۔
ایف آئی آر پر تاریخ آٹھ اکتوبر کی درج ہے تاہم اس میں لکھا گیا ہے کہ واقعہ انتیس ستمبر کی رات پیش آیا تھا، یونیورسٹی انتظامیہ نے مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ بعد میں کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس نے موقع پر پہنچنے اور مسلح شخص کو گرفتار کرنے کے باوجود سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج نہ کیا اور یونیورسٹی کی انتظامیہ کی درخواست آنے تک آٹھ دن انتظار کیا گیا۔

