عالمی خبریں

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکہ کی ایران کو ڈیڈلائن

مارچ 22, 2026

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکہ کی ایران کو ڈیڈلائن

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے سمندری گزرگاہ آبنائے ہُرمز کو 48 گھنٹوں میں نہ کھولا تو اس کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیں گے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ شروع ہونے کے تین ہفتے بعد متضاد بیانات اور غیر یقینی صورتحال کی نہج پر پہنچ گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اکثر بیانات زمینی حقائق سے متصادم نظر آتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دو دن قبل کہا کہ جنگ ’کافی حد تک مکمل‘ ہو چکی ہے، لیکن امریکی زمینی افواج بشمول میرین یونٹ خطے میں پہنچ رہی ہیں۔
ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’وہ اس جنگ کو سمیٹ‘ رہے ہیں، لیکن ایرانی اہداف پر امریکی اور اسرائیلی بمباری اور میزائل حملے مسلسل جاری ہیں۔

ایران کی فوج کو ’ختم‘ کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے ڈرون اور میزائل اب بھی خطے میں اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ اہداف ڈیاگو گارشیا میں امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ اڈے تک پھیل چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔
لیکن محض ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران میں اپنے اہداف مکمل کرنے کے بہت قریب ہے۔

ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کے اہداف میں اس کی فوج اور دفاعی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور اس کی جوہری تنصیبات کو ناکارہ بنانا تھا۔ ساتھ ہی اس کا مقصد امریکہ کے خلیج میں اتحادیوں کا تحفظ بھی تھا۔
اس میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کا ہدف شامل نہیں تھا، جس کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ذمے داری دیگر ممالک کی ہونی چاہیے جو خلیج سے تیل کی برآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔

امریکی صدر کی حالیہ ٹروتھ سوشل کی پوسٹ میں ایرانی رجیم کی تبدیلی کی بھی بات نہیں کی جا رہی اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں صدر ٹرمپ بار بار اس بات پر اصرار کر رہے تھے۔

صدر ٹرمپ کے جنگ سے متعلق تازہ اہداف میں یہ ممکن ہے کہ امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے بغیر ہی اس جنگ سے نکل سکتا ہے۔
ایران کی تیل کی برآمدات اب بھی جاری ہیں اور آبنائے ہرمز پر کسی حد تک اس کا کنٹرول بھی برقرار ہے۔

صرف ایک ہفتہ قبل امریکی میڈیا نے بتایا تھا کہ تقریباً 2500 امریکی فوجی اور بحری اور جنگی جہاز جاپان سے مشرق وسطیٰ کے لیے روانہ کیے گئے ہیں، اسی حجم کی ایک اور میرین فورس حال ہی میں کیلیفورنیا میں اپنے اڈے سے روانہ ہوئی ہے اور اپریل کے وسط میں اس کی آمد متوقع ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے