پاکستان

لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں آپریشن کا مقابلہ کر کے ویڈیو بنانے والی 4 ڈاکٹر معطل

مارچ 28, 2026

لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں آپریشن کا مقابلہ کر کے ویڈیو بنانے والی 4 ڈاکٹر معطل

لاپور میں سرجری کا مقابلہ کرنے اور اس کی ویڈیو بنانے کے الزام میں چار لیڈی ڈاکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

‏صوبہ پنجاب کی وزارت صحت کے احکامات پر لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں خواتین کے آپریشن کی ویڈیو بنانے والے سٹاف کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل بظاہر موبائل فون سے ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں ڈاکٹروں نے سرجری ماسک پہن رکھے ہیں اور مریضوں کے چہرے آپریشن تھیٹر میں‌ لگے پردوں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔

ساتھ یہ سنائی دیتا ہے کہ ’یہاں پر فُل مقابلہ چل رہا ہے کہ کون پہلے سی سیکشن کرتا ہے، ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر طیبہ (کے درمیان)۔‘

پھر ویڈیو میں ایک دوسری آواز سنائی دیتی ہے کہ ’ڈاکٹر عیسیٰ جج ہوں گے۔‘ اس پر قہقے بھی لگتے ہیں۔

‏سرکاری اعلامیے کے مطابق لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے دوران چار زیر تربیت پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کو معطل کیا گیا ہے۔

‏معطل کی جانے والی ڈاکٹروں میں ڈاکٹر طیبہ، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر اور ڈاکٹر عائشہ افضل کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ معطل کر دی گئی ہے۔

‏پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹرز کو محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ لیڈی ولنگڈن ہسپتال کی ایم ایس ڈاکٹر فرح انعام سے تین دن میں جواب طلب کیا گیا ہے۔

‏شو کاز نوٹس میں ہیڈ آف گائنی پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔

‏لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں دو الگ الگ آپریشنز کے دوران ڈاکٹرز کے درمیان مقابلے بازی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھی جس پر صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔

شعبہ صحت سے منسلک رہنے والے سینیئر افراد نے کہا تھا کہ ڈاکٹرز کی جلد بازی سے مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ سکتی ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق سخت پابندی کے باوجود ڈاکٹرز نے واقعے کی ویڈیو بھی بنائی جو افسوسناک اور اُن کی پیشہ ورانہ اخلاقیات کے خلاف ہے۔ جنوری کے دوران پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے شعبے میں کام کرنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کچھ ڈاکٹرز مبینہ طور پر مریضوں پر کیے جانے والے سی سیکشن پروسیجرز پر ’شرط‘ لگا رہے تھے جو کہ نہ صرف طبی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ مریض کے وقار اور پیشہ ورانہ معیار کے بھی منافی ہے۔

اعلامیے کے مطابق سنگین غفلت کے اس واقعے نے ’طبی شعبے پر اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے