پاکستان

لاہور میں شہری نے بیوی اور تین بیٹیوں کو آگ لگا دی، گیس کی لوڈشیڈنگ وجہ بنی

مارچ 29, 2026

لاہور میں شہری نے بیوی اور تین بیٹیوں کو آگ لگا دی، گیس کی لوڈشیڈنگ وجہ بنی

پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور میں شوہر نے بیوی اور تین کم عمر بیٹیوں کو کمرے میں بند کر کے آگ لگا دی جن کو شدید زخمی حالت میں‌ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے-

صوبائی پولیس کے حکام کے مطابق یہ واقعہ شہر کے علاقے برکت ٹاؤن شاہدرہ میں پیش آیا جہاں مبینہ طور پر سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث بیوی شوہر کو روٹی بنا کر نہ دے سکی تھی-

تھانہ شاہدرہ میں‌ متاثرین کی جانب سے محمد فاروق بھٹی نے مقدمہ درج کرایا- انہوں نے پولیس کو بتایا کہ اُن کی بھتیجی نور فاطمہ کی شادی محمد بلال سے کرائی گئی تھی-

ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے بتایا کہ ’آٹھ برس قبل کرائی گئی اس شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ملزم نے اپنی بیوی سے گالم گلوچ اور اس پر تشدد کرنا شروع کیا، لیکن ہم لوگ خاموشی اختیار کرتے رہے اور اپنی بیٹی کو سمجھاتے رہے-‘
محمد فاروق بھٹی کے مطابق ’اس دوران دونوں‌ کے ہاں تین بیٹیاں پیدا ہوئیں- ان میں‌ایک کی عمر چھ سال، دوسری تین برس، اور تیسری ڈیڑھ ماہ کی شیر خوار ہے-‘

ایف آئی آر میں‌ لکھا گیا ہے کہ ’مارچ کی 26 تاریخ کی صُبح بلال نے نور فاطمہ سے ناشتہ بنانے کا کہا، جس پر اُس نے بتایا کہ گیس نہیں آ رہی- اس بات پر طیش میں آ کر ملزم نے چاروں ماں بیٹیوں کو کمرے میں‌ بند کرتے ہوئے تالا لگایا اور پہلے سے لا کر رکھی ہوئی پیٹرول کی بوتل چھڑک کر آگ لگا دی-‘

پولیس کو مقدمہ درج کراتے ہوئے مزید بتایا گیا کہ ’دھواں اور آگ دیکھ کر محلے والے بھاگتے ہوئے اُن کے گھر میں اوپر والے کمرے کی طرف گئے، اور تالا توڑ کو ماں، بیٹیوں کو جھلسی ہوئی حالت میں وہاں سے میو ہسپتال منتقل کیا-‘

واقعے کے تیسرے دن وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے میو ہسپتال لاہور کا دورہ کر کے جھلسنے والی ماں اور تینوں بچیوں کی عیادت کی-

انہوں نے اہل خانہ سے ملاقات کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی، اور کہا کہ متاثرہ خاندان کو قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔

ادھر پولیس نے کہا ہے کہ بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم شوہر کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے