مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات، سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف ٹرائل کیوں روکا؟
سپریم کورٹ نے سینیئر صحافی و اینکر پرسن مطیع اللہ جان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے میں جاری ٹرائل کو روک دیا ہے-
جمعرات کو جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے اپنے حکمنامے میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے اس کیس میں اطلاق کے خلاف درخواست کے فیصلے تک فرد جرم عائد نہیں کی جائے گی۔
بیرسٹر عبدالقدیر جنجوعہ مطیع اللہ جان کی طرف سے پیش ہوئے، جبکہ ٹرائل کورٹ میں ایڈوکیٹ میاں علی اشفاق، بیرسٹر احد کھوکھر اور ایڈوکیٹ فیاض کندھوال سینیئر صحافی کی نمائندگی کر رہے ہیں-
بدھ کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پولیس کے استغاثہ اور سرکاری وکیل کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا تھا-
صحافی مطیع اللہ جان کی اپنے خلاف مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات ختم کرانے کی درخواست پر سماعت دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے-
گزشتہ روز سماعت میں کیا ہوا تھا؟
بدھ کو مطیع اللہ جان کے وکیل بیرسٹر قدیر جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں چالان جمع ہو چکا ہے اور کل جمعرات کا دن فرد جرم عائد کرنے کے لیے مقرر ہے-
وکیل نے تین رکنی عدالتی بینچ کو بتایا کہ سیاسی جماعت کے احتجاج کے بعد کی صورتحال کی رپورٹنگ سے روکنے کے لیے مطیع اللہ جان پر یہ مقدمہ بنایا گیا-
وکیل قدیر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ کل فرد جرم عائد ہونی ہے، استدعا ہے کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکنے کا حکم جاری کرے.
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ فرد جرم عائد ہو بھی جائے تو واپس ہو سکتی ہے، چارج فریم ہونا کوئی ایسی بات نہیں-
بینچ کی رکن جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ منشیات رکھنے کے مقدمے میں تو ضمانت نہیں ہوتی؟ وکیل نے بتایا کہ فرانزک رپورٹ کے بعد مطیع اللہ پر منشیات برآمدگی چارج ختم ہو چکا ہے-
جسٹس نعیم اختر افغان نے مطیع اللہ جان کے خلاف ایف آئی آر میں درج الزامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی سے پولیس کے بیریئر کو ٹکر ماری، نیچے اُتر کر پولیس اہلکار سے گن چھین لی، یہ تو سُپرمین ہو گیا-
جسٹس نعیم اختر افغان نے پوچھا کہ ہائیکورٹ نے ابھی فیصلہ کیوں نہیں کیا؟ وہاں یہ کیس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیوں نہیں ہوا؟ وکیل نے بتایا کہ ہائیکورٹ نے 23 فروری کے بعد کیس دوبارہ مقرر نہیں کیا-
جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ مطیع اللہ جان کو بینچ پر اعتراض تو نہیں؟
درخواست گزار مطیع اللہ نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا-
عدالت نے پراسیکوشن کو کل (جمعرات) تک کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست گزار کے خلاف پولیس کے جمع کرائے گئے نئے چالان کی رپورٹ بھی طلب کر لی-

