پاکستان

بزرگ صحافی کی بیماری، پنجاب حکومت کے ’چیک کی واپسی‘ اور سندھ حکومت کا ’علاج قبول‘

اپریل 17, 2026

بزرگ صحافی کی بیماری، پنجاب حکومت کے ’چیک کی واپسی‘ اور سندھ حکومت کا ’علاج قبول‘

پاکستان میں‌ بزرگ صحافی امتیاز عالم کے علاج کا معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور دو صوبوں میں صحت کی سہولیات کا موازنہ اور اس پر تبصرے کیے جا رہے ہیں-

پیپلز پارٹی اور ترقی پسند تحریک کی جانب جھکاؤ رکھنے والے ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) کے سیکریٹری جنرل صحافی امتیاز عالم کی دل کی بیماری کے علاج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کی گئی ایک پوسٹ نے ن لیگ کے حامی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بعض صحافیوں کو ردعمل پر مجبور کیا ہے-

’پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب ایڈیٹس‘ نامی ہینڈل سے ایکس پر امتیاز عالم سے منسوب ایک بیان میں‌ ’میرا علاج، NICVD کی قانونی مدد اور پنجاب حکومت کی ذاتی مہربانی‘ کے عنوان سے لکھا گیا ہے کہ ’میرے علاج کے حوالے سے پنجاب جرنلسٹ ہاوسنگ فاوُنڈیشن کی جانب سے چیک نمبر 16042026 مبلغ پندرہ لاکھ روپے بذریعہ وزارت اطلاعات مجھے ابھی 2 بجے 16 اپریل وصول ہوا ہے جسے قبول کرنے میں مجھے اخلاقی قباحت محسوس ہو رہی ہے۔‘

بیان کے مطابق ’اس کی وجہ یہ ہے کہ کس اصول اور پیمانے پر یہ 15 لاکھ روپے مجھے عنایت کیے جا رہے ہیں؟ کیا صحافیوں کے لیے کوئی فنڈ مخصوص ہے اور کوئی صحافی ہیلتھ کارڈ موجود ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو میں اس بخشش کا حقدار کیسے ہو سکتا ہوں؟‘

امتیاز عالم سے منسوب بیان میں‌ مزید کہا گیا ہے کہ کوئی یہ سمجھائے کہ یہ ضمیر پر بوجھ نہ بنے۔ حکومت پنجاب سے بھی امید ہے کہ وہ کوئی یکساں پالیسی کے تحت حقِ صحت کو عملی جامہ پہنچائے۔

بیان کے مطابق ’میرے دل کے لیے جو آلہ چاہیے تھا وہ ملک میں موجود نہیں تھا۔ اس لیے میں نے اپیل کی کہ دل کے آلہ CRT-D منگوانے میں مدد کی جائے۔ سندھ حکومت نے صحت کے مفت علاج کے لیے ایک سرکاری ادارہ NICVD بنایا ہے، جو اس طرح کی سہولت بلا تفریق تمام شہریوں کو فراہم کرتا ہے۔ ان کی جانب سے پیغام ملا کہ وہ اس آلہ کو باہرسے درآمد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پھر میرے دوست سید ناصر شاہ کا پیغام موصول ہوا کہ NICVD کے دو سپیشلسٹ ڈاکٹرز میرے معائنے کے لیے لاہور آئیں گے اور آلہ قلب کی درآمد کا انتظام بھی کر دیا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ البتہ آلہ قلب کل موصول ہو جائے گا۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب ایڈیٹس نے امتیاز عالم سے منسوب بیان میں‌ پوسٹ کیا کہ ’میں سندھ کے وزیراعلی، سید ناصر شاہ اور وزیر اطلاعات میمن کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعلقہ آلہ قلب کم ترین مدت میں درآمد کر لیا جس سے مجھے ایک نئی زندگی مل سکتی ہے۔ NICVD کی بلا امتیاز خدمات قابل تحسین ہیں۔ ان سے فائدہ اُٹھانے میں کوئی اخلاقی قباحت نہیں۔‘

امتیاز عالم کے بیان میں‌ کہا گیا ہے کہ ’میں پنجاب حکومت، اپنے عزیز دوست پرویز رشید اور وزیراعلی محترمہ مریم نواز کی ذاتی ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

بیان کے مطابق ’کاش NICVD طرز کا ادارہ پنجاب میں بھی ہوتا اور صحافیوں کے لیے کوئی مناسب صحت کارڈ ہوتا جو مجھے یہ اخلاقی جواز فراہم کرتا کہ میں ٹیکس دہندگان کے فلاحی فنڈ سے 15 لاکھ روپے قبول کر سکتا۔ میں نہایت ادب اور شکریہ کے ساتھ پنجاب حکومت کی اس ذاتی عنایت کو قبول کرنے سے اخلاقی طور پر قاصر ہوں، جس کے لیے سچائی سے معذرت خواہ ہوں۔ اس چیک کا کیا جائے، اس کا فیصلہ میں جناب مجیب الرحمان شامی، ناصر زیدی اور نصرت جاوید کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔‘

اس پوسٹ کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایکس پر ری پوسٹ کیا ہے-

سینیئر صحافی نصرت جاوید نے پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب ایڈیٹس کی پوسٹ کو ری پوسٹ کر کے لکھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے فوری ردعمل پر وہ نہایت شکرگزار ہیں- امتیاز عالم ہیرے جیسی شخصیت ہیں- اور خواہش ہے کہ وہ جلد صحت مند زندگی کی طرف واپس آئیں-

اس بیان کو ری پوسٹ کر کے جنگ گروپ سے منسلک صحافی عمر چیمہ نے تبصرہ کیا کہ ’اللہ تعالیٰ ان کو صحت یاب کرے تاہم یہ ٹویٹ پڑھ کر مجھے افسوس ہوا کہ امتیاز عالم صاحب جیسا صاحب حیثیت آدمی (جو خود لاہور میں ایک فارم ہاؤس کا مالک ہو) اپنے علاج کے لیے حکومت کی طرف دیکھ رہا ہو اور وہ بھی جبکہ آلے کی خریداری کے لیے بجٹ بھی قابل برداشت ہو، ہاں اگر کوئی مالی طور پر کم حیثیت والا صحافی ہوتا تو اور بات تھی- امتیاز صاحب نے اتنے سے پیسوں کے لیے جو جو دوروازے کھٹکھٹائے وہ باعث افسوس ہے-‘

عمر چیمہ کے اس تبصرے کو عرب نیوز ڈاٹ پی کے ویب سائٹ سے منسلک رپورٹر وسیم عباسی نے ری پوسٹ کیا ہے-

بزرگ صحافی نصرت جاوید نے عمر چیمہ کے طنزیہ تبصرے پر اُن کو جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امتیاز عالم نے کبھی رقم نہیں مانگی۔ جان لیوا لمحات میں اُن کے دل کی دھڑکن کو ریگولیٹ کرنے کے لیے فوری طور پر ایک ڈیوائس کی ضرورت تھی اور وہ NICVD کے سٹور میں بھی دستیاب نہیں تھا اور صرف حکومت ہونے کی وجہ سے وہ اس ڈیوائس کو فاسٹ ٹریک پر درآمد کر سکتے تھے۔

نصرت جاوید کا مزید کہنا تھا کہ امتیاز عالم نے نہیں بلکہ ان کے دوستوں اور خیر خواہوں نے سندھ حکومت سے ڈیوائس حاصل کرنے کی درخواست کی۔ وہ اب بھی سندھ یا پنجاب حکومت سے کوئی مالی مدد لینے کو تیار نہیں

خود کو جیالا لکھنے والے ایک صارف فہیم ستار نے عمر چیمہ کی پوسٹ پر ردعمل میں‌ لکھا کہ ’امتیاز عالم جیسے سینیئر صحافی اگر پاکستان میں علاج کروانے کو ترجیح دیتے ہیں تو یہ قابلِ احترام فیصلہ ہے، نہ کہ تنقید کا۔ وہ چاہتے تو وہ میاں صاحب کی طرح بیرون ملک سے علاج کروا لیتے۔ کیا واقع پنجاب کے ہسپتال اس قابل ہیں کہ ہر شہری کو بروقت سہولت فراہم کر سکیں؟
اصل سوال یہ ہے کہ ایک بنیادی طبی ڈیوائس کے لیے بھی دوسرے صوبے کی طرف دیکھنا پڑے تو یہ نظام کی کمزوری ہے نہ کہ مریض کی۔ ایسے مواقع پر اصلاح کی ضرورت ہے نہ کہ کردار کشی کی۔‘

صحافی بہزاد سلیمی نے اس پر تبصرہ کیا ہے کہ ’امتیازعالم صاحب سندھ حکومت کی فیور لے کراس کی قصیدہ گوئی کررہے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کے چیک کے شرعی ہونے کا فتویٰ چاہ رہے ہیں ۔ امتیاز صاحب کو شاید 15 لاکھ کی رقم اپنی توہین محسوس ہوئی ہے، اگر یہ رقم 50 لاکھ یا کروڑ ہوتی تو انہیں اپنے شایان شان محسوس ہوتی اور پھر قبول کر لیتے-‘

اسلام آباد میں‌ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مینجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے امتیاز عالم کے بیان پر تبصرہ کیا ہے کہ ’آپ ایک حکومت کی عنایت قبول کر کے اس کی تشہیر کر رہے ہیں اور دوسری حکومت کی عنایت کو مسترد کر رہے ہیں۔ این آئی سی وی ڈی کے دو سپشلسٹ ڈاکٹر کس اصول کے تحت سندھ سے لاہور آپ کا معائنہ کرنے آئے؟ کیا وہ ہر عام شہری کا معائنہ کرنے اس کے گھر جاتے ہیں جیسے آپ تبلیغ کر رہے ہیں کہ مساوات ہونی چاہیے؟ کیا سندھ حکومت نے جس طرح آپ کے لیے ترجیحی بنیادوں پر آلے کی درآمد کا انتظام کیا اسی طرح ہر مریض کے لیے کیا جاتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ سندھ حکومت نے دل کے مریضوں کے لیے اور جگر کی پیوندکاری کے لیے بہترین ادارے بنائے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں دل کے ہسپتال بنانے کا سلسلہ سب سے پہلے مسلم لیگ ن کی حکومت میں شروع ہوا۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی بنا اس کے بعد راولپنڈی میں ایسا ہی ہسپتال بنا۔ آپ پیپلز پارٹی کی پروجیکشن فرما رہے ہیں اور مسلم لیگ ن کو مساوات کا بھاشن دے رہے ہیں یہ دوہرا معیار ہے۔ باقی یہ نوٹ فرما لیں کہ میں مسلم لیگ کا حامی نہیں بلکہ اس کا شدید ناقد ہوں لیکن انصاف کے تقاضوں کو کبھی بالائے طاق رکھ کر نہیں لکھتا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے