کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب دھماکے سے ٹرین اور درجنوں گاڑیاں تباہ، 25 ہلاک
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب دھماکے نتیجے میں وہاں سے گزرنے والی ٹرین کی بوگیاں اور قریب موجود درجنوں گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں-
ٹرین کی بوگیاں اُلٹنے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ ڈی ایس پی سٹی قادر قمبرانی کے مطابق 25 افراد ہلاک اور 52 زخمی ہو گئے ہیں-
سوشل میڈیا پر کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسوب ایک بیان گردش کر رہا ہے جس میں ذمہ داری قبول کی گئی ہے-
ٹرین کوئٹہ کینٹ سے شہر کے ریلوے سٹیشن کی طرف جا رہی تھی جہاں سے اس نے پنجاب کی جانب سفر کرنا تھا-
جائے حادثہ پر فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔ ریلوے لائن کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں جل کر خاکستر حالت میں ہیں اور قریبی محلے کے متعدد گھروں کو بری طرح نقصان پہنچا ہے-
دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں ریلوے لائن کے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے جبکہ ٹریک پر ٹرین کی بوگیاں اُلٹی ہوئی ہیں۔
قبل ازیں اتوار کی صبح ہونے والے اس دھماکے کے حوالے سے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا تھا کہ واقعے کی تفصیلات آ رہی ہیں-
جائے وقوعہ سے عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے کی شدت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی نظر آ رہی ہے-
دھماکے کے باعث کوئٹہ شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔