ماہر معاشیات ندیم الحق کے ’مزدور چھٹی پر کیوں جاتے ہیں‘، علی ارقم کا کالم
ماہر معاشیات ندیم الحق نے کہا ہے کہ ‘عید آنے والی ہے لیکن مزدور پہلے ہی چھٹی پر چلے گئے ہیں۔ 10 دن میں واپس آئیں گے۔ ہم سب کو غربت پر ڈرامائی افسوس کرنا پسند ہے- اور دوسری جانب غریب، وہ یہاں اپنی بہترین زندگی گزار رہے ہیں — لمبی شاندار چھٹیاں لے رہے ہیں، کام سے مسلسل وقفے لے رہے ہیں، اور موقع ملتے ہی سستی کرتے جاتے ہیں!
پیسہ کمانے کے لیے سخت محنت کیوں کریں، جب آپ بس ….
روزانہ اجرت والے مزدور مزید کمائی کے لیے اضافی وقت دینے سے انکاری ہیں؟
نتیجہ: کوئی غربت نہیں ہے، دوستو، لوگ مطمئن ہیں!“
یہ الفاظ کس کیفیت کے زیر اثر لکھے گئے ہیں۔ شاید گھریلو ملازم چھٹی پر ہے اور دستیاب نہیں، شاید مقصد اس عمومی رجحان پر طنز کرنا ہو جس میں غریب، مزدور اور ذاتی ملازمین کو کام چور، بے ایمان اور اخلاقیات سے عاری سمجھا جاتا ہے۔
”عید آ رہی ہے، مزدور پہلے ہی چھٹی پر چلے گئے“
ایلیٹ ورلڈ ویو میں غریب آدمی بنیادی طور پر ایک labor input یعنی کام کرنے والا پرزہ ہے، ایک ایسا عنصر جو مسلسل مارکیٹ کے لیے دستیاب رہنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مزدور عید پر اپنے گاؤں چلا جاتا ہے، خاندان کے ساتھ وقت گزارتا ہے، یا چند دن کام سے دور ہو جاتا ہے تو انہیں فوراً declining work ethic نظر آنے لگتی ہے۔
گویا مزدوروں کی انسانیت، سماجی رشتے، جذباتی وابستگیاں، ثقافتی سرگرمیاں، سب معاشی کارکردگی کے مقابلے میں غیر اہم ہیں۔ انسان نہ ہوا، بس معیشت کا ایک معمولی پرزہ بن کر رہ گیا۔
اسی ایلیٹ ذہنیت سے وہ سطحی پیرامیٹر جنم لیتے ہیں جن کے ذریعے غربت کو ناپا جاتا ہے۔ اگر کسی غریب کے پاس موبائل فون ہے، موٹر سائیکل ہے، یا وہ عید پر گاؤں جانے کے لیے کرایہ نکال لیتا ہے تو فوراً سوال اٹھایا جاتا ہے: ”یہ کیسی غربت ہے؟“
جیسے غریب صرف وہی ہو جو بھوکا مر رہا ہو، ننگا ہو، یا سڑک پر پڑا ہو-
آج کی نیو لبرل معاشیات میں غربت کو اکثر کنزمپشن یعنی اخراجات کے پیمانے سے جانچا جاتا ہے: کتنے موبائل ہیں؟ کتنے پنکھے ہیں؟ گھریلو اخراجات کیا ہیں؟ کتنے لوگ مارکیٹ میں شرکت کر رہے ہیں؟
حالانکہ ایک مزدور کے پاس سمارٹ فون ہو سکتا ہے مگر اس کے پاس ہیلتھ کیئر نہیں۔ وہ موٹر سائیکل رکھ سکتا ہے مگر پوری زندگی قرضوں میں الجھی ہو سکتی ہے۔ وہ عید پر گھر جا سکتا ہے مگر اگلے مہینے کے کرائے کے لیے پھر ادھار لینا پڑ سکتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی علمی مسئلہ وہ ہے جس کی طرف دیپانکر گپتا اپنی کتاب Checkpoint Sociology میں اشارہ کرتے ہیں: سماجی حقیقت کو صرف اعدادوشمار اور انڈیکیٹرز کے ذریعے “قابلِ پیمائش” بنا دینے کی خواہش اکثر حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اسے مسخ کر دیتی ہے۔ جب ریاست، اکیڈمیا یا ماہرینِ معاشیات سماج کو صرف ان میٹرکس کے ذریعے دیکھتے ہیں جو آسانی سے گنے جا سکیں، تو وہ چیزیں غائب ہو جاتی ہیں جو سب سے زیادہ معنی رکھتی ہیں، جیسے انسانی وقار، خوف و غیر یقینی، سماجی تعلقات، اور روزانہ کی بنیاد پر سروائیول کی پیچیدگیاں۔
گپتا یہ دکھاتے ہیں کہ جدید طرز حکمرانی اور پالیسی سازی میں “checkpoint mentality” پیدا ہو جاتی ہے، جہاں انسان کو مکمل وجود کے طور پر نہیں بلکہ چیک پوائنٹس کے ذریعے دیکھا جاتا ہے جو ڈیٹا میں تبدیل ہو سکیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو چیز ناپی نہیں جاسکتی وہ یا تو غیر اہم ہے یا سرے سے موجود ہی نہیں مان لی جاتی-
یہی وہ epistemic reduction ہے جو نیو لبرل معاشی سوچ کو مضبوط بناتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں معیشت کا بڑا حصہ انفارمل ہے۔ لاکھوں لوگ روزانہ کی بنیاد پر کچھ کما کر زندگی چلاتے ہیں۔ ان کے پاس مستقل روزگار نہیں، سوشل سکیورٹی نہیں، چھٹیوں کا معاوضہ نہیں، ہیلتھ کوریج نہیں۔ ایسے میں اگر کوئی مزدور عید پر دس دن کے لیے کام چھوڑتا ہے تو یہ عیاشی نہیں بلکہ شاید پورے سال میں واحد موقع ہے جب وہ اپنے بچوں، والدین یا شریکِ حیات کے ساتھ وقت گزار سکے۔ مگر ایلیٹ ڈسکورس اسے بھی کام چوری یا غیر منطقی رویہ سمجھتا ہے۔
اسی لیے ایلیٹ طبقہ اور اکیڈمیا اکثر غربت کو سٹرکچرل مسئلہ ماننے کے بجائے کلچر اور رویوں کا مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ اعداد و شمار پر ضرورت سے زیادہ انحصار چاہے وہ مختلف سروے ہوں یا غربت کی لکیریں، یہ ایک ایسا فریم ورک بناتے ہیں جس میں غربت انسانی زندگی نہیں بلکہ ایک statistical کیٹگری بن کر رہ جاتی ہے
اگر غریب ہنس دے، عید منا لے، چائے پی لے، موبائل استعمال کرے یا چند دن آرام کر لے تو ایلیٹ تصور پر زد پڑتی ہے، کیونکہ اس کے مطابق غربت کا “مناسب” رویہ مسلسل محرومی دکھانا اور فریاد کرتے رہنا ہے۔
حالانکہ غربت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان زندگی کے ہر جذبے، ہر خوشی، ہر تعلق اور ہر تہوار سے دستبردار ہو جائے۔ غریب آدمی کی چند دن کی چھٹی غربت کے خاتمے کا ثبوت نہیں؛ بلکہ شاید اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام تر حق تلفی اور استحصال کے باوجود اس کے اندر کا انسان ابھی زندہ ہے-

