اہم خبریں

ایران کے جوہری اداروں تک امریکی ٹیکنالوجی پہنچانے کا الزام، 35 ملین ڈالر کے محل کا مالک گرفتار

جون 6, 2026

ایران کے جوہری اداروں تک امریکی ٹیکنالوجی پہنچانے کا الزام، 35 ملین ڈالر کے محل کا مالک گرفتار

واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف نے ایرانی نژاد امریکی شہری اور ایران میں قائم ایک ٹیکنالوجی کمپنی کے سربراہ جمشید غومی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جدید امریکی نیٹ ورکنگ، سیکیورٹی اور انکرپشن آلات ایران منتقل کیے، جن میں ایران کے جوہری اور دفاعی ادارے بھی شامل تھے۔

امریکی حکام کے مطابق 63 سالہ جمشید غومی پر بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات ایکٹ (IEEPA) کی خلاف ورزی کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔استغاثہ کا مؤقف ہے کہ غومی اپنی تہران میں قائم کمپنی کے ذریعے امریکی ساختہ کمپیوٹر نیٹ ورکنگ آلات خریدتے اور متحدہ عرب امارات میں قائم درمیانی کمپنیوں کے ذریعے ایران منتقل کرتے تھے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ سامان ایران کی جوہری توانائی تنظیم، وزارت دفاع اور دیگر حساس سرکاری اداروں تک پہنچایا گیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر ایران سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مختلف ممالک میں قائم تجارتی کمپنیوں اور ایکسچینج ہاؤسز کے ذریعے امریکہ منتقل کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 2011 سے 2024 کے دوران 15 ملین ڈالر سے زائد رقوم امریکہ منتقل کی گئیں۔

محکمہ انصاف کے مطابق غومی نے کیلیفورنیا میں واقع اپنی پرتعیش رہائش گاہ کی تعمیر کے لیے بھی انہی رقوم کا استعمال کیا، جس کی مالیت تقریباً 35 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔اگر عدالت میں الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو جمشید غومی کو 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم امریکی قانون کے مطابق ملزم اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے-

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے