اہم خبریں

جھنگ کی ایشال فاطمہ کی موت، تین ملزمان گرفتار

جون 11, 2026

جھنگ کی ایشال فاطمہ کی موت، تین ملزمان گرفتار

صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ایشال فاطمہ کو اغوا کیے جانے کے بعد اُن کی ہسپتال میں موت نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔

درج کیے گئے مقدمے کے مطابق ایشال فاطمہ مقامی کالج میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھیں اور چار جون کو اپنے گھر سہیلی سے ملنے کے لیے نکلی تھیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ایشال کے والد نے تھانے کو اِس بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا اور اہلخانہ خود ہی بیٹی کی تلاش میں مصروف رہے۔

ایشال کو تین لڑکے حالت خراب ہونے پر نجی ہسپتال چھوڑ گئے تھے، جہاں کی انتظامیہ نے پولیس کو آگاہ کیا اور پھر ایشال کو قریب واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال (ڈی ایچ کیو) منتقل کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق جب اہلخانہ ہسپتال پہنچے تو اُن کی بیٹی کی حالت انتہائی خراب تھی اور وہ ’موت و حیات کی کشمکش’‘ میں تھی۔

نجی ہسپتال سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ تین لڑکے ایشال کو نیم بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال میں چھوڑ کر گئے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق ایشال کی عمر 17 سے 18 سال کے درمیان تھی اور وہ مقامی کالج میں فرسٹ ائیر کی طالبہ تھیں۔ والد کے مطابق ایشال چار جون کی دوپہر ایک بجے گھر سے یہ کہہ کر نکلی تھیں کہ وہ سِلے ہوئے کپڑے لینے کے لیے بازار جا رہی ہیں۔ درزی کی دکان ایشال کی ایک دوست کے گھر کے قریب واقع تھی۔

والدین کے مطابق ایشال کی دوست کا 11 سالہ چھوٹا بھائی الیکٹرک سکوٹی پر ایشال کو لینے آیا تھا۔ والد نے دعویٰ کیا کہ اُن کی بیٹی اپنی دوست کے گھر پہلے بھی کبھی کبھار رات گزار لیتی تھی۔

پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور سوشل میڈیا صارفین اُن کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے