بلوچستان میں فوج اور پولیس اہلکاروں سمیت 42 مارے گئے، 54 شدت پسند بھی ہلاک
پاکستانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چار دنوں میں شورش زدہ صوبے بلوچستان میں شدت پسندی کے واقعات میں پولیس کے 27 اور سکیورٹی فورسز کے 11 اہلکاروں سمیت 42 افراد کی جانیںگئی ہیں۔
فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اسی عرصے کے دوران کی گئی جوابی کارروائیوں میں 54 شدت پسند مارے گئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کی دوپہر ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اِن واقعات میں 27 پولیس اہلکاروں، 11 فوجی اہلکاروں اور چار سویلین کو ہلاک کیا گیا۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے شدت پسندی کے جن تین بڑے واقعات کا ذکر کیا ان میں زیارت میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر حملہ بھی شامل ہے جس میں ان کے بقول مجموعی طور پر 27 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کی جانب سے ان حملوں کا ذمہ دار انڈیا اور اس کے حمایت یافتہ شدت پسند گروہوں کو قرار دیا گیا ہے۔
انڈیا نے تاحال اس الزام پر ردعمل نہیں دیا تاہم ماضی میں اس کی جانب سے ایسے دعوؤں کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔