ماڈل ٹاؤن رپورٹ 30 روز میں
لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی انکوائری رپورٹ 30 روز میں شائع کرنے اور متاثرین کو فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ پنجاب حکومت سمیت دیگر اپیل کندگان نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری کو پبلک کرنے کے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرکے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے پنجاب حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کر دی اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے دائر ایک ہی نوعیت کی تین اپیلیں مسترد کرتے ہوئے رپورٹ شائع کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بینچ نے سانحۂ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ منظر عام پر لانے کی پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ یہ حکم بھی دیا کہ پبلک کی جانے والی جوڈیشل انکوائری رپورٹ کا ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت سانحہ ماڈل کے مقدمات پر اثر نہیں پڑے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مقدمہ شفاف انداز میں چلایا جائے۔
واضح رہے کہ سنہ 2014 میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور پنجاب پولیس کے درمیان جھڑپ کے دوران 14 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ دو ماہ قبل 21 ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو منظرعام پر لانے کا حکم جاری کیا تھا۔

