پاکستان

دس جولائی کو کیا ہوگا؟

جولائی 7, 2017

دس جولائی کو کیا ہوگا؟

سپریم کورٹ کے پانامہ پیپرز فیصلے کے نتیجے میں تشکیل پانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے اور عدالت کی ہدایت کے مطابق اپنی حتمی رپورٹ دس جولائی کو پیش کرنی ہے۔ پاکستان میں اس وقت ہر زبان پر یہی ایک سوال ہے کہ دس جولائی کو کیا ہوگا؟۔ کیا سپریم کورٹ کا یہی تین رکنی بنچ رپورٹ دیکھ کرفیصلہ کر دے گا؟۔ کیا تین میں سے ایک جج نے اپنی رائے تبدیل کرلی تو وزیراعظم نواز شریف نااہل ہوکر گھر چلے جائیں گے؟۔
ملک کے قانونی ماہرین کا اس بارے میں کسی رائے پر مکمل اتفاق نہیں ہے۔ کچھ وکیل کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا یہی تین رکنی بنچ اپنا فیصلہ رپورٹ دیکھ کرجاری کرے گا۔ جبکہ زیادہ تر قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ دس جولائی کو جے آئی ٹی صرف اپنی رپورٹ پیش کرے گی، اور سپریم کورٹ کا بنچ اس پر کوئی فیصلہ نہیں دے گا بلکہ اس کا جائزہ لینے کیلئے سماعت ملتوی کردے گا۔ آئین وقانون کی سمجھ بوجھ رکھنے والے سپریم کورٹ کے صحافیوں کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں صرف جے آئی ٹی کی تشکیل اور تحقیق کرکے رپورٹ حاصل کرنے کا ذکر ہے، اور چونکہ یہ بنچ صرف فیصلے پر عمل درآمد کیلئے بنایاگیا تھا اس لیے حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس بنچ کا کام ختم ہوجائے گا جبکہ رپورٹ پر فیصلہ یا مزید کارروائی کیلئے چیف جسٹس کو نیا بنچ تشکیل دینے کیلئے درخواست کی جائے گی۔
پانامہ کیس فیصلے میں لکھا گیا تھاکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد دیکھا جائے گا کہ کیا وزیراعظم کو اپنی صفائی کیلئے طلب کیاجائے، کیا اسی رپورٹ کی روشنی میں اہلیت کا فیصلہ کیاجائے یا پھر وزیراعظم کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی ہدایت کی جائے۔ موجودہ تین رکنی عمل درآمد بنچ میں شامل جج کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ جے آئی ٹی پر اعتراضات کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں اور حسین نواز سمیت جن کو بھی شکایت ہے حتمی رپورٹ کا انتظار کریں جس کے بعد ہی ارکان کے تعصب سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جا سکے گا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے