بری ہونے والے نظر بند
راولپنڈی انتظامیہ نے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں بری ہونے والے پانچ افراد کو ایک ماہ کے لیے اڈیالہ جیل میں ہی نظر بند کر دیا ہے۔
راولپنڈی کی انتظامیہ نے رہائی پانے والے پانچوں افراد محمد رفاقت، حسنین گل، عبدالارشید، شیر زمان اور اعتزاز شاہ شامل ہیں کو نظر بند کرنے کے احکامات پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی سفارشات کی روشنی میں جاری کیے ہیں۔ ان سفارشات میں کہا گیا تھا کہ اگر یہ افراد رہا کر دیے گئے تو ملک میں نقص امن کے خدشات بڑھ جائیں گے۔ سفارشات میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان افراد کی رہائی سے خود ان کی جان کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان افراد نے نو سال تک اڈیالہ جیل میں ہی قید کاٹی تھی۔
عدالتی فیصلے پر کارروائی کرتے ہوئے جیل انتظامیہ نے ان افراد کی رہائی کا عمل مکمل کر لیا تھا تاہم راولپنڈی کی انتظامیہ کی جانب سے جاری احکامات کی روشنی یں انھیں جیل سے باہر نہیں جانے دیا گیا۔
گذشتہ روز راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بینظیر بھٹو قتل کیس کے فیصلے میں زیر حراست پانچ مرکزی ملزمان کو بری کرتے ہوئے دو پولیس افسران کو مجرمانہ غفلت برتنے پر 17 برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے اس وقت کے ملک کے فوجی سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا ہے۔

