جج کو غیرت آ گئی
پاکستان میں اعلی عدلیہ اور اس کے جج گزشتہ ایک سال سے مختلف تنازعات کا شکار ہیں، جہاں ایک طرف ہائیکورٹس میں ججوں کے لکھے فیصلوں پر سپریم کورٹ کے جج اپنی ناخوشی کا اظہار کرتے رہتے ہیں وہیں سپریم کورٹ کے ججوں پر بھی یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ ملک کے سب سے بڑے قبضہ مافیا ڈان کے مقدمے کو وکیلوں کی درخواست پر مسلسل زیرالتواء رکھے ہوئے ہیں_
سپریم کورٹ کے وکیلوں کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے اسلام آباد میں جس طرح دھونس دھاندلی سے مالکان کو ڈرا دھمکا کر زمین حاصل کی جا رہی ہے اس کے بارے میں پاکستان 24 انہی صفحات پر آپ تک رپورٹ پہنچاتا رہا ہے _
اب سپریم کورٹ کے ایک جج نے وکیلوں کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے زمین کے حصول کے لیے جاری مقدمے کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا ہے، جسٹس فیصل عرب نے آج اس کیس کی سماعت شروع ہوتے ہی کہا کہ وہ سننے سے معذرت خواہ ہیں جس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ کسی اور بنچ کے سامنے لگایا جائے کیونکہ جج صاحبان میرے ساتھ آئندہ دو ماہ تک اسی بنچ میں شامل رہیں گے، اس طرح چیف جسٹس نے بھی مقدمے کی سماعت سے جان چھڑا لی ہے _ یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر ایک زمین مالک نے چیف جسٹس کے سوال پر کمرہ عدالت میں کہا تھا کہ وہ جان دینے کے لیے تیار ہے مگر وکیلوں کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے اپنی زمین عدالت کے ذریعے بھی ہتھیانے نہیں دے گا _
یہ قیمتی زمین اسلام آباد میں کامسیٹس یونیورسٹی کے سامنے واقع ہے جس کو وکیلوں کے لیے اونے پونے داموں حاصل کرنے کے لیے انتظامیہ پر عدالت اور ججوں کے ذریعے گزشتہ سال سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے _

