بنتے ٹوٹتے سیاسی اتحاد
کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہوں کی مشترکہ پریس کانفرنس اور ایک دن کے اتحاد نے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو خوشی سے سرشار کر دیا تھا اور انہوں نے اسے مہاجر قوم کے لیے بہت خوش آئند قرار دیتے ہوئے ایک وسیع قومی اتحاد کے اشارے بھی دے دیے تھے، مگر جیسے ہی یہ بیل منڈیر تک نہ چڑھی تو فورا بیان دے دیا کہ وہ بے وقوف نہیں جو عصبیت یا لسانیت کی بنیاد والی جماعت کے سربراہ بنیں _ اس دھچکے سے ابھی پرویز مشرف سنبھلنے نہ پائے تھے کہ طاہرالقادری کی جماعت عوامی تحریک کے ترجمان نے کسی نئے اتحاد سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا، ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان عوامی اتحاد سے ان کا کوئی تعلق نہیں، اتحاد کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی، ترجمان کے مطابق میڈیا بریفننگ اور اتحاد کے اعلان سے مکمل لاعلم تھے، عوامی تحریک کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چند منٹ مشاورتی اجلاس چلا تو میڈیا بریفننگ شروع ہوگئی، اجلاس میں ابتدائی گفتگو ملکی سیاسی صورتحال پر تھی، ایجنڈے پر گفتگو سے پہلے ہی میڈیا پر اعلان کر دیا گیا _
اس طرح پرویز مشرف کے لیے بننے والے سیاسی اتحاد بننے سے پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے ہیں _

