پاکستان

دہشتگردی پولیس مقابلوں سے ختم نہیں ہوگی، سپریم کورٹ

فروری 4, 2018

دہشتگردی پولیس مقابلوں سے ختم نہیں ہوگی، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف پر حملے کے الزام میں گرفتار ملزمان کو بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے پولیس مقابلے کرانا درست طرز عمل نہیں ہے _
سپریم کورٹ کا مشرف حملہ کیس کے ملزمان کوبری کرنے کا فیصلہ 18صفحات پر مشتمل ہے جو جسٹس دوست محمد خان نے تحریر کیا ہے _ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ
انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کوجدید آلات کی فراہمی، ججوں، تفتیش کاروں، گواہوں کا تحفظ بھی دہشت گردی میں ملوث افراد کو سزا دینے میں معاون ثابت ہوسکتا یے،
تمام ایجنسیوں کے مشتترکہ نیٹ ورک،معلومات کے تبادلے سے دہشت گردی کوروکاجاسکتاہے، انسداد دہشت گردی کے موجودہ نظام میں بہت سی خامیاں موجود ہیں، انٹیلی جنس نیٹ ورک کی مضبوطی سے دہشت گردوں کو دستیاب مالی وسائل کوکنٹرول کیے جاسکتے ہیں، دارلحکومت اور صوبوں میں جدید فرانزک لیبارٹریاں فوری قائم کرنی چاہیے، ملک میں امن کی بحالی غیرملکی سرمایہ کاروں کومتوجہ کرے گی، دہشت گردوں کومقابلوں میں قتل کرنادہشت گردی ختم کرنے کاحل نہیں، سپریم کورٹ نے ملزمان کوبری کرنے کافیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا_

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے