احتساب عدالت میں مزید دستاویزات
فیصہ محفوظ ہے لیکن مزید دستاویز عدالت میں جمع کرا دی گئیں ۔ نوازشریف نے العزیزیہ اورفلیگ شپ ریفرنسز میں حسن نواز کی فروخت شدہ پراپرٹی کی اضافی دستاویزاحتساب عدالت کی کارروائی اور ریکارڈ کا حصہ بنا دیں ۔ جج ارشد ملک نے ریمارکس دیئے کہ کیس یہ ہے کہ نوازشریف نے اپنے بے نامی دار کے نام پر جائیداد بنائی، اب یہ پراپرٹی بیچیں یا رکھیں اس کا کیس پر کیا اثر پڑے گا؟
نوازشریف کے وکلاء نے یوکے لینڈ رجسٹری سے تصدیق شدہ ایک اور دستاویزاحتساب عدالت میں جمع کرائی۔عدالت نے دستاویز عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم جاری کیا ۔
نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل سردار مظفرنے کہا کہ وکیل صفائی کی طرف سے شہادت مکمل ہونے کا بیان دیا جا چکا ہے، کوئی قانون بتا دیں جس کے تحت یہ دستاویزاب پیش کی جاسکتی ہے، ملزموں کو دفاع پیش کرنے کیلئے پورا موقع دیا گیا، جو دستاویزات پیش کی گئیں ان کا فنانشل اسٹیٹمنٹ میں ذکر ہی نہیں ۔
سردارمظفر کاکہنا تھاکہ جو دستاویزات نیب نے پیش کیں ان کے مطابق کمپنیاں نقصان میں تھیں، یہ اب کمپنی کے ڈسپوزل کی دستاویزات لے آئے ہیں، نیب کا کیس یہ ہے کہ کمپنیاں بنائی کیسے گئیں؟
جج ارشد ملک نے ریمارکس دیئے کہ گزشتہ سماعت پرانہوں نے کہہ دیا تھا کہ دستاویزات فیصلے سے پہلے پیش کی جاسکتی ہیں۔ عدالت نے دستاویزعدالتی ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے نوازشریف کی درخواست نمٹا دی۔

