پاکستان

بحریہ ٹاؤن نے عدالت سے جھوٹ بولا، جسٹس عظمت سعید

فروری 28, 2019

بحریہ ٹاؤن نے عدالت سے جھوٹ بولا، جسٹس عظمت سعید

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون سے کراچی میں عدالتی فیصلے کے باوجود پلاٹ فروخت کرنے پر وضاحت طلب کی ہے ۔ جسٹس عظمت سعید نے وکیلوں سے کہا کہ بحریہ ٹاون عدالت سے جھوٹ بول رہا ہے ۔

عمل درآمد بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ یہ سوال نہیں کہ بحریہ کتنے پیسے دے گا، سوال سچائی کا ہے ۔


جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے سامنے نجی مارکیٹنگ کمپنی کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے ۔

جسٹس فیصل عرب نے سوال اٹھایا کہ نجی مارکیٹنگ کمپنیاں بحریہ ٹاون کے تسلیم شدہ علاقے سے باہر پلاٹ بیچ رہی ہیں ۔ جسٹس عظمت سعید نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل علی ظفر سے استفسار کیا کہ نقشے کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے تو کہا تھا کہ کچھ علاقہ ہمارا نہیں پھر بحریہ ٹاون کا اتھارائزڈ پراپرٹی ڈیلر پرزم کیسے وہاں پلاٹ بیچ رہا ہے؟۔
بحریہ ٹاون کے وکیل علی نے جواب دیا کہ دیکھ لیتے ہیں اس زمین کے پیسے بحریہ نے لیے ہیں یا نہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالت کو تو بتایا گیا تھا کہ یہ زمین بحریہ کی کبھی تھی ہی نہیں۔

جسٹس عظمت شدید برہم ہوئے اور کہا کہ وکیل اور بحریہ انتظامیہ نے تو عدالت سے غلط بیانی کی ہے ۔ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ سیٹیلائٹ تصاویر موجود ہیں اس لیے وکلا اپنے موکل کی طرف سے غلط بیانی نہ کریں ۔


جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بحریہ نے عدالت کے سامنے درست صورتحال نہیں رکھی، اس سے بد نیتی واضح ہوتی ہے، سوال یہ نہیں کہ آپ پیسے دیں گے نہیں دیں گے، اب سچائی پر سوال اٹھ گئے ہیں، ہماری آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکیں گے۔

بحریہ ٹاون کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ دوبارہ اپنے موکل بحریہ ٹاون سے اس بات کی تصدیق کی اجازت دی جائے، ممکن ہے پرزم ڈیلر جو زمین بیچ رہا ہے وہ کسی اور علاقے میں ہو۔

جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ پرزم یا بحریہ کسی ایک نے عدالت سے جھوٹ بولا ہے، جب اعتبار ایک دفعہ ختم ہو جاتا ہے تو ختم ہو جاتا ہے، آپ کہیں گے باہر دھوپ نکلی ہے میں نہیں مانوں گا ۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ بحریہ ٹاون اور پرزم کے دیئے گئے نقشوں میں فرق ہے، آپ سمجھتے ہیں ہم نے ریکارڈ نہیں پڑھا، بحریہ کی بات مان لیں تو ثابت ہوتا ہے کہ پرزم مارکیٹنگ نے لوگوں سے فراڈ کیا ہے ۔

جسٹس عظمت نے کمپنی کے وکیل سے پوچھا کہ کیا پرزم مارکیٹنگ نے فراڈ کیا ہے، جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن اور پرزم عدالت کے ساتھ کھیل کھیل رہے ہیں ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی حل نکالا جا سکتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ عدالت کے سامنے درست بات نہیں کی گئی ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ لگتا ہے اس کیس کی تمام سماعتیں ضائع ہو گئیں، جسٹس منیب اختر نے بحریہ کے وکیل سے کہا کہ اب آپ کو ثابت کرنا ہے کہ آپ کے نقشے درست تھے ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہمارے سامنے وضاحت پیش کرنے کے لیئے بھی آپ کو ہمیں قائل کرنا پڑے گا، میرا خیال نہیں آپ ہمیں قائل کر پائیں گے ۔

عدالت نے بحریہ ٹاؤن کو وضاحتی جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے ۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن نے ابھی تک 10 ارب جمع کرائے ہیں، چھ مارچ تک حتمی وضاحت کریں ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اب معاملہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں کے مرحلے پر پہنچ چکا ہے ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے