دہشت گردی کیا ہے؟ تشریح کریں گے
پاکستان کی سپریم کورٹ نے دہشت گردی کی تعریف اور تشریح کا تعین کرنے کے لیے لارجر بنچ تشکیل دیا ہے ۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دہشت گردی کی تعریف کے تعین کے لیے سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ہے جس کی سربراہی وہ خود کریں گے ۔
بدھ کو ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ 1997 اب تک یہ طے نہیں ہوا کون سا کیس دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی کی تعریف کے لیے سات رکنی بینچ بنا دیا ہے ۔
خیال رہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے انسداد کا قانون ۱۹۹۷ میں نافذ کیا گیا تھا لیکن آج تک حتمی تعین نہیں کیا جا سکا کہ کون سا مجرمانہ فعل یا مقدمہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جھوٹی گواہی کی قانونی حیثیت پر بھی فیصلہ آج جاری کر دیا جائے گا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج سے یہ طے ہو جائے گاجھوٹی گواہ کی پوری گواہی مسترد ہوگی ۔

