’ضیا کے مارشل لا سے بھی بدتر‘
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے دو ارکان قومی اسمبلی کواسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کی اجازت نہ دینے پر زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کا ردعمل آ رہا ہے ۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ انہیں یہ سن کر بہت مایوسی ہوئی کہ اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں دو منتخب عوامی نمائندوں کو پریس کانفرنس نہیں کرنے دی گئی۔
بلاول بھٹو نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’بدترین مارشل لا کے دور میں بھی پریس کلبز اظہار رائے کی آزادی کی پناہ گاہیں تھیں مگر نیا پاکستان میں سنسرشپ نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔‘
اس سے قبل اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے صدر کے دستخط سے جاری ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا تھا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی پریس کانفرنس کو ناکام کرنے میں نیشنل پریس کلب کے کسی بھی عہدیدار کا ہاتھ نہیں اور نہ ہی کوئی عہدیدار اس ساری صورتحال سے واقف تھا ۔
پریس کلب کے وضاحتی بیان کے مطابق ’جمعہ کو نیشنل پریس کلب میں پی ٹی ایم کی جانب سے باقاعدہ پریس کانفرنس کی بکنگ نہ ہونے کی وجہ سے پی ٹی ایم کو میڈیا کوریج نہ مل سکی جس پر ایم این اے محسن داوڑ، علی وزیر، فرحت اللہ بابر اور افراسیاب خٹک نے مذمتی بیان جاری کیا۔‘

ادھر پریس کانفرنس کی اجازت نہ دینے پر خیبر پختونخوا سے نیویارک ٹائمز کے لیے کام کرنے والے صحافی احسان ٹیپو محسود نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں بیٹھے پشتون رہنماؤں کی تصویر ٹویٹ کر کے لکھا ہے کہ ’اظہار رائے کی آزادی کی اس قدر افسوس ناک صورتحال ہے۔‘
پریس کلب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کلب کے صدر نے پی ٹی ایم رہنماؤں کی چائے سے تواضع کی اور ان کو باعزت طریقے سے رخصت کیا تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پشتون تخفظ موومنٹ کے رہنماؤں کو پریس کانفرنس کی دوبارہ بکنگ کی دعوت دی گئی یا نہیں ۔
خیال رہے کہ ماضی میں اسلام آباد پریس کلب میں آدھے گھنٹے کے نوٹس پر بھی ہنگامی پریس کانفرنس کے لیے میڈیا کو دعوت نامے جاری کیے جاتے رہے ہیں ۔
واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس پاکستانی مین سٹریم میڈیا نہیں دکھاتا اور صحافیوں کی اکثریت اس کی رپورٹنگ بھی نہیں کرتی ۔
ایک سال قبل پشتون تحفظ موومنٹ نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے کراچی میں قتل کیے گئے نقیب اللہ محسود سے ہمدردی کے اظہار اور اس کے قتل میں ملوث ملزم پولیس افسر راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے بھی کیمپ لگایا تھا جس کی پاکستانی میڈیا نے کوریج نہیں کی تھی ۔
صحافی اور براڈ کاسٹر مرتضی سولنگی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ضیا الحق کے مارشل لا میں بھی پریس کلب آزادی اظہار کی محفوظ پناہ گاہ تھی اور کمیونسٹ پارٹی سمیت کسی بھی جماعت کے عہدیدار وہاں پریس کانفرنس کر سکتے تھے ۔ ’یہ ضیا کے مارشل لا سے بھی بدتر ہے۔‘

