ساڑھے پانچ ہزار ارب ٹیکس کا ہدف
پاکستان میں وزیراعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ملک کی آئندہ معاشی پالیسی کا روڈ میپ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں پانچ ہزار پانچ سو ارب روپے ٹیکس اکھٹا کرنے کا ہدف دے رہے ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ معیشت کو بہتر کرنے کے لیے گھر سے سادگی مہم شروع کی جائے گی اور محصولات بڑھانے کے لیے ٹیکس کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے۔
عبدالحفیظ شیخ اور ساتھ بیٹھے آدھ درجن وزرا سے صحافیوں نے سوال کیے کہ کیا گھمبیر معاشی صورتحال میں دفاعی بجٹ کم اور سادگی مہم کے تحت جرنیلوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ بھی واپس لی جائے گی تو وہ کوئی واضح جواب نہ دے پائے۔
حفیظ شیخ نے قریب بیٹھے مشیر کی جانب سے لقمہ ملنے کے بعد کہا کہ ”ہمیں ایک ایسے ہمسائے کا سامنا ہے جس کے لیے ہمیں ہر وقت تیار رہنا پڑتا ہے، ہم مشکل خطے میں رہتے ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے کفایت شعاری اختیار کرتے ہوئے سخت فیصلے کرنے ہیں اور اس پر حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور جو بجٹ آئے اس میں بھی سب ساتھ ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ میں فاٹا کے عوام کے لیے 46 ارب رکھے جائیں گے جبکہ بجلی گیس اور فوڈ پر سبسڈی کے لیے رقم مختص بھی کی جائے گی۔
مشیر خزانہ نے وزیر منصوبہ بندی اور وزیر توانائی کے ساتھ میڈیم ٹرم اکنامک فریم ورک پر مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان، وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور ایف بی آر کے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے بھی شرکت کی۔

مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ معیشت کا روڈ میپ بنایا ہے۔ ترسیلات میں دو بلین ڈالر کا اضافہ اور امپورٹ میں چار بلین ڈالر کی کمی موجودہ حکومت نے کی۔ ”اگلے چند ہفتوں میں آئی ایم ایف کا بورڈ کی منظوری کے بعد پروگرام حاصل ہونا شروع ہو جائے گا۔“
مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر کسی شعبے میں سبسڈی دینا ہوں گی تو ریونیو لانا ہو گا۔ ”ہمارے ملک میں صرف 20 فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں جن میں چھ لاکھ لوگ تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دیتا ہے۔“
عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ بجلی میں سبسڈی دینے کے لیے دو سو 16 ارب رکھے جا رہے ہیں۔ ”احساس پراگرام کے لیے آئندہ بجٹ میں ایک دو 80 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ فوڈ سبسڈی کے لیے 30 ارب روپے رکھے جاہیں گے۔ گیس کی قیمت بڑھی تو چالیس فیصد چھوٹے طبقے کو تحفظ دیں گے۔“
مشیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں فاٹا کے عوام کے لیے 46 ارب رکھے جائیں گے۔ ہاؤسنگ سکیم کے تحت 28 سیکٹر میں نوکریاں پیدا ہوں گی۔ کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت سو ارب روپے رکھے جائیں گے۔

وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا کہ بجلی چوری والے فیڈرز کر الیکشن کی وجہ سے بجلی فراہم کرنے سے 450 ارب کا گردشی قرضہ بڑھا 30 دسمبر 2020 تک اس کو صفر پر لائیں گے۔
چیرمین ایف بی ار کا کہنا تھا کہ یکم جولائی کے بعد بے نامی اثاثوں پر ایکشن ہوگا، قانون کے تحت اثاثے ضبط بھی کیے جاسکتے ہیں 28 ممالک سے ایک لاکھ 20 ہزار افراد کا ڈیٹا مل چکا ہے۔

