جسٹس قاضی فائز نے صدر کو خط لکھ دیا
پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے ملک کے صدر کو خط لکھ کر اپنے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے کا پوچھا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا ہے تو ان کو بھی اس کی نقل فراہم کی جائے۔
سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے ایم جے ٹی وی پر خبر بریک کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس قاضی فائز نے خط میں لکھا ہے کہ ’جناب صدر، مجھے معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے میرے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کوئی ریفرنس فائل کیا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو مجھے بھی اس کی نقل فراہم کی جائے تاکہ اس کا جواب دے سکوں۔‘
جسٹس قاضی فائز اس خط میں صدر مملکت سے کہہ رہے ہیں کہ اگر ایک ریفرنس فائل کیا جاتا ہے اور اگر مجھے اس کا جواب دینے کے لیے کہا جاتا ہے تو اس کے مندرجات سامنے لایا جا سکتا ہے اور اس کے بعدان کے جواب کو بھی سامنے لایا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ریفرنس کی خبریں ان کی کردار کشی کے مترادف ہے، ’اور یہ میرا فئیر ٹرائل کا حق ہے اس کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور عدلیہ کے ادارے کی بھی بے توقیری ہو رہی ہے۔‘
صدر سے کہا ہے کہ ’آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔‘

خط کی نقل وزیراعظم اور سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو بھی بھیجی ہے۔

