پاکستان24 متفرق خبریں

’ٹیکس مانگنے والے وزیراعظم کے اپنے ٹیکس کا گوشوارہ‘

سوشل میڈیا پر صارفین اور صحافیوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا دیا گیا ٹیکس بھی قوم کے سامنے ظاہر کریں۔

مئی 31, 2019

’ٹیکس مانگنے والے وزیراعظم کے اپنے ٹیکس کا گوشوارہ‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹیکس دینے والے ایک فیصد پاکستانی 22 کروڑ عوام کا بوجھ اٹھا رہے ہیں، یہ نا ممکن ہے۔ اس بیان پر سوشل میڈیا پر صارفین اور صحافیوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا دیا گیا ٹیکس بھی قوم کے سامنے ظاہر کریں۔

وزیراعظم عمران خان نے ایمنسٹی سکیم کے تحت قوم کو 30 جون تک اثاثے ظاہر کرنے کی ہدایت کی۔

جمعرات کو قوم کے لیے ایک مختصر ریکارڈ کیے گئے ویڈیو پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 30 جون تک اثاثے ظاہر کرنے کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔ 

صحافی فخر درانی نے وزیراعظم کے پیغام کے بعد سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر عمران خان کے ٹیکس گوشوارے سامنے لاتے ہوئے سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’ کیا آپ جانتے ہیں کہ قوم کو ٹیکس ادا کرنے کی تلقین کرنے والےوزیراعظم نے خود پچھلے تین سالوں میں کتنا ٹیکس ادا کیا اور ان کے مجموعی طور پر کتنےاثاثے ہیں۔ 300 کنال کے مہنگے گھر، لاہور کی زمان پارک رہائش گاہ، بنی گالہ میں مزید 6 کنال زمین، گرینڈ حیات میں لگژری فلیٹ اور دیگر شہروں میں زرعی زمین پر کتنا ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا۔‘

فخر درانی نے عمران خان کے ٹیکس گوشوارے سامنے لاتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ کئی شہروں میں قیمتی زرعی اراضی اور سینکڑوں ایکڑ زراعتی رقبہ رکھنے اور بنک اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے موجود ہونے کے باوجود خان صاحب نے 2015 میں صرف 73 ہزار، 2016 میں 1 لاکھ 60 ہزار اور 2017 میں 1 لاکھ 3 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ جبکہ یہ ہر سال بیرون ملک کے دورے بھی کرتے رہے۔

صحافی فخر درانی نے لکھا ہے کہ ’ خان صاحب نے یہ جو ٹیکس ادا کیا ہےاس میں بطور ایم این اے انکی تنخواہ سے کٹنے والا ٹیکس اور بطورکرکٹر انکو ملنے والی پینشن سےکٹنے والا ٹیکس بھی شامل ہے۔ اگر تنخواہ اور پینشن سے کٹنے والی ٹیکس کی رقم نکال دیں تو خود اندازہ لگائیں انہوں نے اپنی جیب سے کتنا ٹیکس ادا کیا ہوگا؟۔‘

وزیراعظم نے قوم کے نام پیغام میں یہ بھی کہا کہ ’عوام کی کوئی معلومات سرکاری اداروں سے چھپی ہوئی نہیں ہیں اور بہتر ہے کہ وہ اپنے بے نامی اکاؤنٹ اور پراپرٹی ظاہر کر دیں، تو ان کو متعلقہ ادارے پریشان نہیں کریں گے۔‘

انہوں نے عوام کو پیغام میں کہا کہ وہ اپنا بیرون ملک رکھا ہوا پیسہ واپس لا کر پاکستان کی خدمت کریں۔ ایسا کرنے سے پاکستان کے معاشی مسائل حل ہوں گے۔

عمران خان نے قوم کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ملک پر ہی خرچ ہو گا اور وہ یہ پیسہ ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ پاکستانیوں میں سے صرف ایک فیصد ٹیکس گوشوارے جمع کراتے ہیں۔ ’یعنی ایک فیصد پاکستانی 22 کروڑ پاکستانیوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی عوام کی خدمت کر ہی نہیں سکتا اگر لوگ ٹیکس نہ دیں۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے ٹیکس نہ دینے کی وجہ سے صحیح معنوں میں لوگوں کے لیے ہسپتال اور سکول نہیں بن رہے اور نہ ہی انفراسٹرکچر بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہی وہ ایمنسٹی سکیم متعارف کر رہے ہیں تاکہ لوگ اپنے اثاثے متعارف کرا سکیں۔ 

صحافی فخر درانی کے مطابق خان صاحب نے اپنے اثاثوں میں 168 ایکڑ زرعی اراضی ظاہر کی اور یہ بتایا کہ اس سے ان کو صرف 23 لاکھ روپے کی آمدن ہوئی جس پر انہوں نے 3 لاکھ 19 ہزار زرعی ٹیکس ادا کیا۔ ’کیا کوئی پاکستانی بتا سکتا ہے کہ 168 ایکڑ اراضی کی آمدن 23 لاکھ ممکن ہے۔‘

فخر دارنی نے لکھا ہے کہ ’بہت سے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ٹیکس آمدن پر دیا جاتا ہے جائیدادوں یا اثاثوں پر نہیں۔ ان سے صرف ایک سوال ہے کہ اگر عمران خان کی taxable income ہی نہیں تو اتنی بے تحاشا جائیدادیں کہاں سے بنالیں؟اور اگر یہ سب وراثتی جائیدادیں ہیں تو کیا ان کی تمام بہنوں کے نام پر بھی اس کے مقابلے آدھی جائیدادیں ہیں؟۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے