افغانستان میں تزویراتی گہرائی نہیں ڈھونڈتے
ہاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں کوئی بھی اس نام نہاد نظریے کو تسلم نہیں کرتا کہ افغانستان میں پاکستان کی سٹرٹیجک گہرائی ہے۔
پاکستان کے سیاحتی شہر مری کے ہوٹل میں افغانستان کی 18 جماعتوں کے رہنماؤں کے کانفرنس کی میزبانی کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان آمد پر افغان سیاسی شخصیات کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں جو بجا طورپر آپ کا دوسرا گھر ہے۔
ممتازترین شخصیات کی موجودگی نہ صرف وسیع تر سیاسی و مذہبی نمائندگی کا مظہر ہے بلکہ رائے عامہ اور افغانستان میں پائیدار اور امن واستحکام کی راہ ہموار کرنے میں بھی اہم کردار کی حامل ہے۔

اس اہم کاوش کے ضمن میں سابق سیکریٹری خارجہ جناب شمشاد احمد صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ’لاہور سینٹر فار پیس ریسرچ‘ کو بھی سراہتا ہوں جس نے امن کے قیام کے لئے یہ اہم عمل شروع کرنے کی مستحسن کاوش کی۔“
انہوں نے کہا کہ بلاشبہ ایسی تقاریب موقع فراہم کرتی ہیں کہ افغانستان کے معاملے کے پہلووں کو درست تناظر ، افغان معاشرے کے مختلف طبقات کی آراء کو سمجھا جائے اور تبادلہ خیال سے ہم آہنگی کو بہتر بنایاجائے۔

افغانستان اور پاکستان دو بھائی ہیں جن میں برادرانہ تعلقات صدیوں پر محیط ہیں
دونوں ممالک کے عوام جغرافیے، تاریخ، عقیدے، خونی رشتوں اور لسانی وثقافتی رشتوں میں بندھے ہیں۔
اس خطے یا دنیا میں کوئی اور ایسے ممالک نہیں جن میں اتنی زیادہ قدریں مشترک ہوں۔
پاکستان نے 1979ءمیں افغانستان میں غیرملکی قبضے کے بعد افغان بھائیوں کی نہ صرف بھرپور مدد کی بلکہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان بھائیوں کی مسلسل مہمان نوازی دونوں ممالک کے عوام میں قربت اور اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کی خدمت گزاری کی ذمہ داری کے احساس کا بھی بین ثبوت ہے۔
”پاکستان کا افغانستان کے بارے میں نکتہ نظر بالکل واضح اور عیاں ہے۔ ہم داخلی طورپر اور ہمسایوں کے ساتھ پرامن افغانستان کے حامی ہیں۔“
شاہ محمود نے کہا کہ افغانستان کی خودمختاری اور اس کی جغرافیائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں۔ ہم پرامن، مستحکم، متحد، جمہوری اور خوشحال افغانستان کے عزم پر سختی سے کاربند ہیں۔
ہم عدم مداخلت، باہمی احترام اور یکساں مفاد کے اصولوں پر مبنی دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔
دہائیوں سے جاری تنازعہ سے افغانستان اور پاکستان کے عوام دونوں نے بے انتہاءتکالیف برداشت کی ہیں۔

افغانستان میں مسلسل عدم استحکام اور تنازعہ کے باعث افغان قوم کے بعد اگر کسی نے سب سے زیادہ تکالیف برداشت کی ہیں تو وہ پاکستان کے عوام ہیں۔
افغانستان میں سلامتی کی صورتحال کے پاکستان کی سلامتی پر مسلسل گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان کے اپنے قومی مفاد میں ہے۔
یہ حقیقت بھی آپ کے سامنے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں کوئی بھی اس نام نہاد نظریہ کو تسلم نہیں کرتا کہ افغانستان میں پاکستان کی سٹرٹیجک گہرائی ہے۔
اپنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر پراپگنڈے یا پھر افغان بھائیوں کے ذہنوں میں غلط فہمی کا بیج بونے کے لئے اس مردے گھوڑے کو زندہ کرنے کی کسی کو اجازت نہ دیں۔
ہم افغانستان کو اپنا دوست اور برادر دیکھنا چاہتے ہیں جہاں منتخب قیادت افغان معاشرے کے تمام رنگوں پر مشتمل پھولوں کا منتخب گلدستہ ہواور وہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کی آئینہ دارہو۔
ہمارے یکساں دشمنوں کا پیدا کردہ عدم اعتماد کا شیطانی چکر اکثر وبیشتر ہمارے برادرانہ تعلقات پر اثرانداز ہوا ہے، الزام تراشی سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منفی پہلو کو ترک کرکے ہم آگے بڑھیں۔
دونوں ممالک کی قیادت پر لازم ہے کہ باہمی اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ہم اپنے مفادات کے منافی کسی کو بھی اپنے اپنے علاقے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔

ہمیں ان قوتوں سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے جو ہمارے درمیان غلط فہمیاں چاہتی ہیں اور تقسیم پیدا کرنے کی خواہش مند ہیں۔
ہمیں ان عناصر کو ہرگز اجازت نہیں دینی کہ وہ ہمارے برادرانہ تعلقات کو گزند پہنچائیں۔ ہمارا مشترکہ مقصد افغانستان میں طویل المدتی امن اور خوشحالی ہے۔
کسی وقت نکتہ نظر میں دکھائی دینے والے کسی فرق کو اہداف کے الگ ہونے پر محمول نہیں کرنا چاہئیے۔
یہ نکتہ میں ایک مثال کے ذریعے بیان کرنا چاہوں گا: دیگر قوتیں افغانستان کے فوجی حل میں یقین رکھتی تھیں لیکن پاکستان نے ہمیشہ سے یہی کہا کہ اس مسئلے میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ صرف مذاکرات ہیں۔ آج دیگر قوتیں بھی اسی نیتجے پر پہنچ رہی ہیں۔
پاکستان نے انتہائی خوش دلی، نیک نیتی اور مشترکہ ذمہ داری کے احساس کے ساتھ افغانستان میں امن عمل کے لئے سہولیات بہم پہنچانے کا کردار ادا کیا اور انشاءاللہ اپنا مطلوبہ کردارادا کرتا رہے گا۔
ایک سال قبل جو جمود ٹوٹنا ناممکن دکھائی دے رہا تھا، الحمداللہ پاکستان کی مدد سے وہ سیاسی جمود ٹوٹا۔
وزیراعظم عمران خان ذاتی طورپر طویل عرصے سے افغانستان میں قیام امن اور مفاہمت کے لئے پرعزم رہے ہیں۔
میں نے دوبارہ وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد اگست 2018ءمیں پہلا دورہ کابل کاکیا۔ اس وقت سے اب تک تین بار کابل جاچکا ہوں۔
افغانستان میں جاری امن عمل میں علاقائی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں چین، روس، ایران، ترکی، قطر، سعودی عرب، اومان اور متحدہ عرب امارات کے دورے بھی میں کرچکا ہوں۔
اس ضمن میں تمام فریقین کی کوششیں نہایت اہم ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ مستقبل کے افغانستان کے حوالے سے حتمی ثالث خود افغان ہی ہیں۔
اٹھارہ سال کے شدید ترین چیلنجوں کے باوجود افغانستان کی جانب سے اب تک کی حاصل کردہ پیش رفت کو ہم سراہتے ہیں۔ نہایت ضروری تقاضا یہ ہے کہ اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کے ثمرات کو نہ صرف محفوظ کیاجائے بلکہ ان کامیابیوں کی بنیادپر بہتری کے سفر کو مزید آگے بڑھایا جائے۔
افغانستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی اور انسانی حقوق خاص طورپر خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے پیش رفت نہایت قابل تعریف ہے۔
پاکستان افغان معاشرے کے تمام طبقات اور ان کے نمائندوں سے اپنے روابط کو مزید گہرا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ افغان عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مزید پختہ کیاجاسکے۔
افغان امن عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان افغانستان میں آبادکاری کے بعد تعمیر نو اور ترقیاتی کوششوں کے لئے بھی اپنے وعدے پر قائم ہے۔
ہم تجارت، سرمایہ کاری، رابطوں کی استواری اور افغان عوام کی استعداد کار میں اضافے کے لئے افغانستان کی مدد کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

ہم عوامی سطح پر رابطوں کے فروغ اور ثقافتی تبادلوں کا عزم رکھتے ہیں۔
ہم افغانستان اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں تاکہ ایسے سازگار حالات پیدا ہوں جن میں افغان مہاجرین کی باعزت، محفوظ اور رضاکارانہ واپسی کے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔
آج افغانستان امن و استحکام کے ایک اہم مرحلے پر کھڑا ہے
امن کی تازہ کوششوں نے نئے مواقعے پیدا کئے ہیں۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم یہ موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ کیونکہ ہم اس موقع کو ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔
میں آپ کو یہ یقین دلاتے ہوئے اجازت چاہوں گا کہ پاکستان افغانستان میں طویل المدتی امن، استحکام اور خوشحالی کا پرزور حامی ہے اور اس کارخیر میں حصہ ڈالنے والے تمام کرداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
دونوں ممالک کی قیادت میں یہ صلاحیت موجود ہے جو تنازعات سے نکال کر دونوں ملکوں کو پائیدار استحکام اور خوشحالی کے راستے پر ڈال سکتی ہے۔
یہ اس عمل میں شریک ہر فرد کی دانائی اور بصیرت کا امتحان ہے۔
افغانستان کے عوام ایک بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ آج یہاں موجود اپنے قائدین کی طرف دیکھ رہے ہیں جس کے وہ بجا طورپر حقدار ہیں
افغانستان میں امن واستحکام کے اس کارخیر کا حصہ بننے پر میں آپ سب مہمانان گرامی کا ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں۔

