پاکستان24 متفرق خبریں

’ڈالر دے دیے مگر معیشت نازک موڑ پر ہے‘

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کو چھ ارب ڈالر کا قرض دے دیا ہے مگر اس کی معیشت نازک موڑ پر ہے۔

جولائی 4, 2019

’ڈالر دے دیے مگر معیشت نازک موڑ پر ہے‘

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کا قرض منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت نازک موڑ پر کھڑی ہے۔

بدھ کو عالمی مالیاتی ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کا قرض منظور کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اگلے تین برس کے دوران قسطوں میں ملے گا۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ترجمان گیری رائس نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر قرض کی فراہمی کی منظوری دی ہے جو پاکستان کے معیشت کو مستحکم کرنے کی طرف لوٹانے اور زندگی کے معیار کو بڑھانا کے معاشی منصوبے میں تعاون کے لیے ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ لپٹن کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ سخت معاشی مسائل سے دوچار پاکستان کو اس قرض کے بعد معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے ٹیکسوں کے دائرے کو وسیع کرنے کے ساتھ عوام سے لیے گئے قرضوں میں کمی لانا ہوگی۔

خیال رہے کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بدھ کو راولپنڈی میں فوج کی اعلی کمان کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر ہے اور حکومت نے معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے اہم اور ضروری اقدامات کیے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ٹوئٹر پرکہا کہ ‘آئی ایم ایف بورڈ نے ہمارے معاشی اصلاحات کے منصوبے میں مدد کے لیے چھ ارب ڈالر کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کی منظوری دی ہے’۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ہمارا منصوبہ معاشی عدم توازن میں کمی لا کر وسیع پیمانے پر بڑھوتری کا ہے اور یہ کہ کمزور طبقے کے مکمل تحفظ کے لیے سماجی سطح پر اخراجات کو بہتر بنایا گیا ہے۔‘

ڈیوڈ لپٹن نے اپنے بیان میں کہاا کہ پاکستان کے توانائی کے شعبے اور سرکاری اداروں کے کمزور معاشی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے اور ان اقدامات سے پاکستان اپنے معاشی مستقبل کو بہتر بنا سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی معیشت ایک نازک موڑ پر ہے جہاں ماضی کی معاشی پالیسی کے فیصلوں جیسے کمزور مالیاتی پالیسی، روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر روکنا اور حالیہ برسوں میں پاکستان کے مالیاتی خسارے کی وجہ سے ملک کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

https://twitter.com/a_hafeezshaikh/status/1146460773058850816

عبدالحفیظ شیخ نے یہ بھی کہا کہ ‘ اس پروگرام کا ایک کلیدی حصہ ڈھانچے میں اصلاحات کا ایسا ایجنڈا ہے جس میں حکومت کی مالی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ریونیو کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے قرضوں میں کمی لانا شامل ہے۔‘

مشیر برائے خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے ملنے والا قرض ’ملک کے لیے فائدہ مند اور حکومت کے اس عزم کا غماز ہے کہ وہ ملک میں مالیاتی نظم و ضبط اور ٹھوس معاشی انتظام کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے