’کشمیر سے کانگریس اور حزب اختلاف کی بے دخلی‘
انڈیا میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کشمیر میں حالات ٹھیک نہیں ہیں اور ان کے ساتھ سرینگر جانے والے صحافیوں کو ایئر پورٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
راہل گاندھی نے سرینگر ایئر پورٹ سے واپس کیے جانے کے بعد دہلی پہنچنے پر کہا ہے کہ ’صاف ظاہر ہے کہ کشمیر میں صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔‘
راہل گاندھی نے سرینگر ایئر پورٹ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے سیکیورٹی اہلکاروں کے نامناسب سلوک کی مذمت کی اور کہا کہ ’یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمیں وہاں ایئرپورٹ سے باہر نکلنے نہیں دیا گیا۔‘
خیال رہے کہ سنیچر کو راہل گاندھی حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کے 12 رکنی وفد کی سربراہی کرتے ہوئے کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سرینگر پہنچے تھے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کے وفد کو حکام نے سری نگر ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کا وفد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں زیر حراست سیاسی رہنماؤں سے ملنے کے علاوہ جموں اور کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کرنا چاہتا تھا۔
سری نگر میں حکومت کے تعلقات عامہ کے ادارے کی جانب سے جاری کی گئی ایک ہدایت میں کہا گیا کہ اپوزیشن رہنماؤں کو ایسے وقت میں دورہ نہیں کرنا چاہیے جب یہاں دفعہ 144 نافذ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے آنے سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ پانچ اگست کو خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد انڈیا کی حکومت نے کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے اور ہر قسم کے مواصلاتی رابطے بند ہیں۔ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات کچھ علاقوں میں عارضی طور پر بحال کی گئی تھیں جن کو دوبارہ معطل کر دیا گیا ہے۔

