پاکستان24 متفرق خبریں

جسٹس فائز کے لیے ایک اور درخواست دائر

اگست 29, 2019

جسٹس فائز کے لیے ایک اور درخواست دائر

صدارتی ریفرنس کا سامنا کرنے والے پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کو انصاف دلانے کے لیے سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالت عظمی میں درخواست دائر کی ہے۔

صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرتے ہوئے بار ایسوسی ایشن نے استدعا  کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ریفرنس کو کالعدم قرار دیا جائے۔

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خلاف ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جبکہ پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور عابد حسن منٹو سمیت سینیئر وکلا نے بھی صدارتی ریفرنس کے خلاف عدالت عظمی سے رجوع کیا ہے۔

بدھ کو دائر کی گئی درخواست  میں سندھ بار نے استدعا کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو صدارتی ریفرنس پر مزید کاروائی سے فوری طور پر روکا جائے۔


درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے انکوائری کے طریقہ کار میں ترمیم کی جائے۔ ”جھوٹا اور بے بنیاد ریفرنس دائر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔“

درخواست میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف دائر صدارتی ریفرنس قانونی نگاہ سے بدنیتی پر مبنی ہے۔

”کیا حکومتی اداروں کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججز یا ان کے خاندان کی معلومات بغیر اجازت اور خفیہ اداروں کے ذریعے اکٹھی کی جا سکتی ہیں۔“

درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا ایسٹ ریکوری یونٹ کا چیئرمین خفیہ حاصل کی گئی معلومات دوسرے اداروں  کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ اگر خاندان کا کوئی فرد جائیداد ظاہر نہ کرے تو کیا اس خاندان کے دوسرے افراد کی جائیداد بھی بےنامی دار شمار ہوگی۔

درخواست کے مطابق فیض آباد دھرنا کیس میں نظر ثانی درخواستوں میں قاضی فائز عیسی کے خلاف سخت زبان استعمال کر کے بعد میں واپس لی گئی۔

فیض آباد دھرنا کیس نظر ثانی درخواستوں سے حکومت کی قاضی فائز عیسی کے خلاف تعصب اور بدنیتی ثابت ہوتی ہے۔ صدارتی ریفرنس عدلیہ کی آزادی کے خلاف سازش ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے جسٹس قاضی فائز کے خلاف 30 مئی کو سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس دائر کر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کہا تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے