اسحاق ڈار عدالتی غیر حاضری پر مطمئن کریں
پاکستان کی سپریم کورٹ نے سرکاری ٹی وی کے سابق ایم ڈی عطا الحق قاسمی کے تقرر فیصلے پر نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی عدالتی حاضری کا پوچھا ہے۔
اسحاق ڈارکے وکیل کی جانب سے فریق بننے کی استدعا پر جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا اور اسحاق ڈار کی دیگر مقدمات میں عدم حاضری کی وجوہات سے بھی آگاہ کرنا ہوگا۔
عطاء الحق قاسمی کی جانب سے وکیل تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی اور عدالت کو بتایا گیا کہ وکیل شاہد حامد کسی بات پر ناراض ہوگئے ہیں۔ ’ان کے منشی سے کہا کہ لکھ کر دے دیں وہ لکھ کر بھی نہیں دیتے۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے رولزکے مطابق نظرثانی کے مقدمے میں وکیل تبدیل نہیں کیا جا سکتا، رولز کو دیکھتے ہوئے ہم آپ کواجازت نہیں دے سکتے۔ عدالت نےعطا الحق قاسمی کی درخواست مسترد کر دی۔
اسحاق ڈار کے وکیل سلمان بٹ کی جانب سے فریق بننے کی استدعا پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسارکیا اسحاق ڈار کہاں ہیں؟ وہ مقدمہ لڑ سکتے تھے نہیں آئے۔
وکیل سلمان بٹ نے کہا وہ برطانیہ میں ہیں اسحاق ڈار کے خط پرعدالت نے غور نہیں کیا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا اس حوالے سے کوئی درخواست نہیں دی گئی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پہلے کوئی پیش نہیں ہوا، اب ای میل کردی گئی یہ عدلیہ کی تضحیک ہے۔ ’آپ کو برطانیہ میں کیسے نوٹس ہوسکتا ہے، آپ وہاں عارضی رہائشی ہیں۔‘
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیےاسحاق ڈار نے ایم پی 1 کے علاوہ رقم کی بھی منظوری دی۔ وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ قانون کے مطابق سیکریٹری معاملات کا ذمہ دار ہے وزیر نہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے وزیروں کی جانب سے ایسے ہی احکامات دیے جاتے ہیں کہ ان پر بات نہ آئے بعد میں سیکرٹری پر بات ڈال دی جاتی ہے۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے آپ کو درخواست کی حتمی منظوری کے لیے عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا، آپ کو بتانا ہوگا کہ عدالتوں سے غیر حاضرکیوں ہیں؟ باقی مقدمات کی غیر حاضری سے متعلق آگاہ کرنا ہوگا، پھر تعین کریں گے کہ کیا آپ جان بوجھ کر کارروائی سے غیر حاضر تو نہیں رہے۔
عدالت ںے اسحاق ڈار سے درخواست پر جواب طلب کرلیا۔ سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔

