مشرف غداری کیس میں عدالت پھر بے بس
پاکستان میں سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے پر آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ چلانے والی خصوصی عدالت نے کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو طلب کیا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ پرویز مشرف کو فراہم کیے گئے سرکاری وکیل رضا بشیر بیمار ہیں۔ وہ گذشتہ سماعت پر بھی ڈینگی کے باعث نہ آ سکے تھے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت نے مقدمہ چلانے والی استغاثہ کی ٹیم کو بھی فارغ کر دیا ہے۔
خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے پوچھا کہ کیا آپ کو کوئی نوٹیفکیشن موصول ہوا ہے؟۔
پراسیکیوٹر طارق حسن نے کہا کہ تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی لیکن افواہ ضرور سنی ہے۔ جسٹس نذر اکبر نے ہدایت کی کہ جب تک آپ کو نوٹیفکیشن نہیں ملتا آپ کام جاری رکھیں۔
کیا استغاثہ کی ٹیم کو اس انداز میں فارغ کیا جا سکتا ہے؟ جسٹس وقار احمد سیٹھ
کل بھی پوری رات بیٹھ کر کیس کی تیاری کی، پراسیکیوٹر طارق حسن
عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری داخلہ کو طلب کر لیا۔
عدالت نے پوچھا ہے کہ آگاہ کیا جائے استغاثہ ٹیم کو کس قانون کے تحت فارغ کیا گیا۔
مشرف کے وکیل رضا بشیر کی التواء کی درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت نے مشرف کے وکیل کو آخری موقع دے دیا، مزید التواء کسی صورت نہیں ملے گا۔
سنگین غداری کیس کی اگلی سماعت اب 19 نومبر کو ہوگی۔

