آرمی چیف کو چھ ماہ کی توسیع مل گئی
پاکستان کی سپریم کورٹ نے تین دن میں آٹھ گھنٹوں کی سماعت کے بعد حکومت کو فوج کے سربراہ کی مدت کے تعین کا قانون بنانے کے لیے چھ ماہ کا وقت دے دیا ہے جبکہ اس دوران جنرل قمر جاوید باجوہ ہی آرمی چیف رہیں گے۔
اس سے قبل عدالت نے سابق جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کی دستاویزات حکومت سے طلب کیں تھیں۔
عدالت نے جمعرات کی صبح اٹارنی جنرل کو 15 منٹ کا وقت دیا تھا تاہم بعد ازاں سوا دس بجے سے دن گیارہ بجے سماعت کی گئی اور حکومت کو نئے قانون کے لیے بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر کے ایک بجے مختصر حکم جاری کیے جانے کا کا کہا گیا۔
عدالت ساڑھے تین بجے دوبارہ لگی اور مختصر ٖفیصلہ سنایا گیا۔
جمعرات کو سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب ! پندرہ منٹ ٹائم ہے آپ جنرل کیانی کی توسیع کے کاغذات اور جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے کاغذات جمع کروا دیں۔ انہوں نے اٹارنی جنرل کے گذشتہ روز کے دلائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”کہا گیا ہے کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتا تو پھر دیکھیں تو سہی ان کی پنشن اور دوسرے معاملات کیسے چلتے ہیں۔“
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف کے تقرر کی دستاویزات بھی لائیں۔
اٹارنی جنرل نے دستاویزات اور نیا نوٹیفیکیشن پیش کیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ یہ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں۔ اپنا کام خود کریں ،ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سمری میں عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں، سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تعیناتی قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے، آج کے نوٹی فیکیشن میں نئی تعیناتی 28 نومبر سے کر دی گئی ہے۔

