’حاجیوں کی خدمت سود کی رقم سے‘
پاکستان کی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ حج کے اخراجات کے لیے درخواست گزاروں سے وصول رقم بھی ایسے بینک اکاؤنٹس میں رکھی جاتی ہے جن پر سود لگتا ہے اور منافع میں ملنے والی رقم بھی حاجیوں پر خرچ کی جاتی ہے۔
پیر کو قومی اسمبلی میں وزارت مذہبی امور نے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ انکشاف کیا ہے کہ حج اخراجات کی بینکوں میں جمع رقم پر ملنے والا سود بھی حاجیوں کی خدمت پر خرچ کیا جاتا ہے۔
وزارت مذہبی امور کے تحریری جواب کے مطابق حج اخراجات کی بینکوں میں جمع رقم پر ملنے والی سود کی رقم سے حاجیوں کی تربیت، ویکسینیشن، ادویات کی خریداری اور معلوماتی مواد کی طباعت کی جاتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رکن جام عبدالکریم بجاڑ کے سوال کے جواب میں وزارت مذہبی امور نے پارلیمان کے ایوان زیریں کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران سرکاری حج سکیم کے تحت درخواست دہندگان کی تعداد 14 لاکھ، 37 ہزار 554 تھی جنھوں نے پانچ سالوں میں 3 کھرب، 86 ارب، 66 کروڑ، 60 لاکھ روپے بینکوں میں جمع کروائے۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق پانچ برس میں بینکوں میں جمع کرائی گئی رقم پر سود کی مد میں ایک ارب، 17 کروڑ، 44 لاکھ 30 ہزار 813 روپے حاصل ہوئے۔

