جسٹس نقوی کا وکیلوں کو مشورہ
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی نے ہڑتال کرنے والے وکیلوں سے کہا ہے کہ وہ پھولوں کے گلدستے لے کر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جائیں اور ڈاکٹروں سے گلے مل کر معاملہ ختم کریں۔
واضح رہے کہ وکیلوں کے ہسپتال پر حملے میں تین مریض جان سے گئے جبکہ 81 وکلا پر دہشت گردی کے مقدمات درج کر کے جیل بھیجا جا چکا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس نقوی نے یہ مشورہ اس وقت دیا جب وکلاء جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان نے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی سے عدالت میں مقدمات نہ سننے کی درخواست کی۔
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ عدالت اپنا کام کرے گی۔”یہ میری ذمہ داری میں شامل ہے۔“
جسٹس مظاہر نقوی نے وکیلوں کو مشورہ دیا کہ سینئیر اور نوجوان وکلا پھولوں کے گلدستے لے کرپی آئی سی جائیں اور ڈاکٹروں سے گلے مل کر معاملہ ختم کریں۔
جسٹس نقوی نے جمعے کو عدالت میں پیش نہ ہونے والے وکلاء کےمقدمات عدم پیروی پرخارج نہ کئے جانے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی استدعا قبول کر لی اور کہا کہ کوئی وکیل پیش نہیں ہونا چاہتا تو اس کی اپنی مرضی ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے آبزرویشن دی کہ مقدمات عدم پیروی پرخارج نہیں کئے جائیں گے۔
پاکستان بھر میں آج وکلا ہڑتال کر رہے ہیں۔

