چیف جسٹس نے پہلا کیس نواز پٹواری کا سنا
پاکستان کے نئے چیف جسٹس گلزار احمد نے عہدے کا حلف لینے کے بعد بطور چیف جسٹس پہلا کیس نمٹا دیا ہے جبکہ پہلے دن 45 منٹ میں پانچ مقدمات سنے۔
جہانزیب عباسی
پیر کو کمرہ عدالت نمبر ایک میں پہلے مقدمے میں پنجاب کے پٹواری محمد نواز کی برطرفی کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی گئی۔
جسٹس گلزار احمد عدالت آئے تو وکیل نے انہیں چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے مبارک باد دی اور کہا کہ ”خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ آپ بطور چیف جسٹس پہلا کیس میرا سن رہے ہیں۔“
چیف جسٹس نے وکیل کا شکریہ ادا کیا اور پوچھا کہ اس مقدمے میں گرداور احسان اللہ کو تو پنشن مل گئی ہے، آپ تو پٹواری کے وکیل ہیں احسان اللہ کے معاملے کو بیچ میں کیوں لے کر آ رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ محمد نواز کا تو معاملہ ثابت ہے اس نے عدالتی حکم کے برخلاف کام کیا، محمد نواز پٹواری مس کنڈکٹ کا مرتکب پایا گیا ہے۔
وکیل نے بتایا کہ بوجھ سارا پٹواری پر ڈال دیا گیا لیکن گرداور اور تحصیلدار بھی ملوث تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ انکوائری ہوئی اور فیصلہ محمد نواز صاحب کیخلاف آیا ہے۔
چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ آپ تحصیلدار اور گرداور کو کیس میں شامل کرنا چاہتے ہیں جن کا ریکارڈ ہمارے سامنے موجود نہیں، یہاں ایگزیکٹو کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔
پٹواری محمد نواز کو 2012 میں نوکری سے برطرف کیا گیا تھا۔ پنجاب سروس ٹربیونل نے 2013 کو برطرفی کو برقرار رکھا تھا۔

