پاکستان

نئے آرڈیننس پر ہائیکورٹ کا حکم

جنوری 3, 2020

نئے آرڈیننس پر ہائیکورٹ کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آٹھ صدارتی آرڈیننسز کے خلاف مسلم لیگ ن کی درخواست پر سماعت کے دوران چار سینئر وکلا کو عدالتی معاونین مقرر کرتے ہوئے سیکرٹری قانون و انصاف سے دو ہفتوں میں تحریری جواب طلب کیا ہے۔

عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مسلم لیگ ن کی جانب سے 8صدارتی آڑڈیننسز کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت درخواست گزار رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے وکلا سے استفسار کیا ابھی آرڈیننس آگیا ہے؟جس پر وکلاءنے دلائل دئیے کہ آرڈیننس آگیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے حکومت کس صورت حال میں آرڈیننس جاری کرسکتی ہے، کیا پہلے سے جاری کردہ آرڈیننس واپس نہیں ہو گئے، جس پر وکلاء نے دلائل دئیے واپس نہیں لیے بلکہ مزید آرڈیننس بھی جاری کیے جارہے ہیں اور ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا حکومت نے جواب جمع نہیں کرایا۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ابھی کون سا آرڈیننس آیا ہے تو عدالت کو بتایا گیانیب ترمیمی آرڈیننس آیا ہے جس میں بزنس اور بیوروکریٹس کو تحفظ حاصل ہے، آرٹیکل 89 کا سکوپ آرڈیننس جاری کرنے کے حوالے سے بہت کم ہے، حکومت آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ بیوروکریٹس کو تحفظ کے حوالے سے تو 2016 سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پہلے ہی بیوروکریٹس کو اس طرح نہیں بلایا جاسکتا۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ جو قانون سازی کی گئی جو نامکمل معاملہ ہے،نیب سیاسی طور پر استعمال ہوتا رہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت سینئر وکلا رضا ربانی، مخدوم علی خان، بابر اعوان، عابد حسن منٹو کو عدالتی معاونین مقرر کرتی ہے۔ عدالت کچھ سوالات بنا کر عدالتی معاونین کو بھیجے گی وہ تحریری جواب جمع کرا دیں۔

عدالت نے سیکرٹری قانون وانصاف کو دو ہفتے میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے